ایبٹ آباد یونیورسٹی کے آن لائن نمبروں کے نظام میں مبینہ ردوبدل، ابتدائی شواہد سامنے آگئے

newsdesk
8 Min Read
ایبٹ آباد یونیورسٹی میں ایل ایم ایس اور نمبروں میں مبینہ ردوبدل کی انکوائری جاری ہے۔

نوید ستی

ایبٹ آباد/اسلام آباد: ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ایک انکوائری میں یونیورسٹی کے لرننگ مینجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس) تک غیر مجاز رسائی اور طلبہ کے نمبروں میں

ممکنہ ردوبدل کے ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں۔ انکوائری ریکارڈ کے مطابق عبوری طور پر چار افراد کو مرکزی کردار، آٹھ کو سہولت کار اور 75 طلبہ کو فائدہ اٹھانے والوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

یہ نتائج یونیورسٹی کے آن لائن مارکس سسٹم سے متعلق تعلیمی بے ضابطگی کی انکوائری کا حصہ ہیں۔ انکوائری کمیٹی کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض افراد نے ایل ایم ایس تک غیر مجاز رسائی حاصل کی اور تعلیمی ریکارڈ میں تبدیلیاں کیں۔ کمیٹی کو طلبہ اور مبینہ سہولت کاروں کے درمیان ادائیگیوں کے شواہد بھی ٹرانزیکشن رسیدوں اور اکاؤنٹ ریکارڈز کی صورت میں ملے۔

کمیٹی کے مطابق متعدد طلبہ نے ایل ایم ایس رسائی کے ریکارڈ اور ادائیگیوں سے متعلق شواہد دکھائے جانے کے بعد تحریری بیانات دیے۔ کمیٹی نے دستیاب لیپ ٹاپس اور موبائل فونز کا بھی جائزہ لیا اور سفارش کی کہ پیغامات، سسٹم تک رسائی کے ریکارڈ اور مالی معلومات کو محفوظ رکھنے اور جانچنے کے لیے تفصیلی ڈیجیٹل فرانزک معائنہ کیا جائے۔

انکوائری ریکارڈ میں متعلقہ افراد کو عبوری طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زمرہ اے میں چار افراد شامل ہیں جنہیں مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے۔ زمرہ بی میں آٹھ سہولت کار یا درمیانی کردار شامل ہیں، جبکہ زمرہ سی میں وہ طلبہ شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے نمبروں میں تبدیلی کے ذریعے تعلیمی فائدہ حاصل کرنے یا اس کے لیے رقم ادا کرنے کی کوشش کی۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ درجہ بندی ہر فرد کے کیس میں موجود شواہد سے مشروط ہے۔

انکوائری ریکارڈ میں ایک مبینہ تیسرے فریق کا بھی ذکر ہے جس نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی اور نامعلوم یا ناقابل سراغ ٹیلی فون نمبرز کے ذریعے طلبہ سے رابطہ کیا، زیادہ تر رابطے رات کے اوقات میں کیے گئے۔ ریکارڈ کے مطابق طلبہ کے بیانات میں نمبروں کی تبدیلی سے متعلق مسلسل سرگرمی کا ذکر آیا، تاہم ابتدائی انکوائری میں اس مبینہ بیرونی کردار کی شناخت ثابت نہیں ہو سکی۔

شواہد کی فائل میں ادائیگیوں کا ریکارڈ اور الیکٹرانک رابطے شامل ہیں جنہیں انکوائری کمیٹی نے الزامات سے منسلک کیا ہے۔ دستاویزات میں طلبہ اور سہولت کار قرار دیے گئے افراد کے درمیان متعدد رقم منتقلیاں شامل ہیں، جبکہ چیٹ پیغامات میں ادائیگیوں اور تعلیمی کام میں تبدیلیوں پر گفتگو بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

انکوائری کے ضمیمے میں مختلف مضامین میں پرانے اور بعد کے نمبروں کے فرق بھی درج کیے گئے ہیں۔ بعض درج کیسز میں نمبروں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ کچھ میں ریکارڈ شدہ نمبر کم بھی پائے گئے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ صرف وہی تبدیلیاں واپس کی جائیں جو انکوائری کے ذریعے ثابت ہوں۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ جن نمبروں میں غیر قانونی تبدیلی ثابت ہو، انہیں منسوخ کر کے متعلقہ استاد یا شعبے کی جانب سے دیے گئے اصل نمبر بحال کیے جائیں۔ زمرہ اے میں رکھے گئے افراد کے لیے ایک یا دو تعلیمی سال کے لیے رسٹیکیشن، بحالی کے بعد کونسلنگ، وصول کی گئی رقم کے برابر مالی جرمانہ اور یونیورسٹی کے داخلی ریکارڈ میں باضابطہ وارننگ کی سفارش کی گئی ہے۔

زمرہ بی کے سہولت کاروں کے لیے کمیٹی نے ایک یا دو سمسٹرز کے لیے رسٹیکیشن، متعلقہ کورسز میں ایف گریڈ، وصول کی گئی رقم کے برابر مالی جرمانہ اور ایک سمسٹر کے لیے تعلیمی پروبیشن کی سفارش کی ہے۔ زمرہ سی کے فائدہ اٹھانے والے طلبہ کے لیے متاثرہ کورسز میں ایف گریڈ، باضابطہ وارننگ اور جاری سمسٹر کے لیے تعلیمی پروبیشن کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات ہیں، حتمی سزائیں نہیں۔

یونیورسٹی کی انکوائری ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ کمیٹی کے مطابق اسپرنگ 2026 کے بیشتر ریکارڈز کا جائزہ لیا جا چکا ہے، تاہم بعض نتائج اب بھی زیر معائنہ ہیں۔ کمیٹی نے سابقہ سمسٹرز کی جانچ کے لیے مزید ایک سے دو ماہ کام کی سفارش کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کی غیر مجاز تبدیلیاں ہوئی تھیں یا نہیں۔ کمیٹی نے ہر شعبے میں اعلان شدہ نتائج کو باضابطہ طور پر منظور شدہ نتائج سے ملانے کی بھی سفارش کی ہے۔

خیبر پختونخوا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اب ایبٹ آباد یونیورسٹی میں گورننس، تعلیمی اور مالی انتظامات کے وسیع تر معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک الگ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی 28 ستمبر 2026 کو تشکیل دی گئی، جس میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے وائس چانسلر کو کنوینر، ایچ ای ڈی کے ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نامزد نمائندے اور ایچ ای ڈی کے ایک سینئر افسر کو شامل کیا گیا ہے۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو امتحانی ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل، تعلیمی جائزہ کاری کے عمل، کالجوں کے الحاق، ایچ ای سی اور ایچ ای ڈی گائیڈ لائنز کی ممکنہ خلاف ورزیوں، 2021 سے قانونی اداروں کی کارکردگی، خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ کی دفعہ 17 اے پر عمل درآمد، 2021 سے کی گئی تقرریوں اور یونیورسٹی کے مالی ریکارڈز کی جانچ کا کہا گیا ہے۔ کمیٹی کو اپنی رپورٹ ایک ماہ میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انکوائری کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر یونیورسٹی بھر میں تاریخی اور منتقل شدہ تعلیمی ریکارڈز تک آڈٹ کا دائرہ بڑھایا جائے۔ کمیٹی کے مطابق مزید کیسز کا جائزہ اسی فریم ورک کے تحت اور ہر کیس میں دستیاب شواہد کی بنیاد پر لیا جائے۔

یہ نتائج جاری انکوائری کا حصہ ہیں۔ یونیورسٹی دستاویزات میں اہم پہلوؤں پر شواہد کو ابتدائی قرار دیا گیا ہے اور حتمی نتائج اور تادیبی کارروائی سے قبل مزید ڈیجیٹل فرانزک اور ادارہ جاتی جانچ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

Read in English: Abbottabad University inquiry finds preliminary evidence of LMS breach, marks manipulation

Share This Article