اسلام آباد میں 2026 کی عالمی ذہنی صحت کانفرنس کی میزبانی پاکستان کرے گا

newsdesk
7 Min Read
وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ یکم اور 2 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کی میزبانی کرے گی۔

اسلام آباد: وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کی میزبانی کرے گی۔ یہ دو روزہ کانفرنس یکم اور 2 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں عالمی یومِ ذہنی صحت 2026 کے سلسلے میں منعقد ہوگی۔

وزارت کے مطابق کانفرنس کا موضوع “بچوں، نوجوانوں اور کمیونٹیز کے لیے موسمیاتی اثرات سے مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل” ہوگا۔ اس سمٹ کے انعقاد میں اہم ترقیاتی شراکت داروں کی معاونت بھی شامل ہوگی۔

پاکستان میں ذہنی، اعصابی اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق بیماریوں کا بوجھ نمایاں ہے، جبکہ ذہنی صحت کی سہولتیں منتشر، وسائل کی کمی کا شکار اور زیادہ تر شہری علاقوں کے بڑے اسپتالوں تک محدود ہیں۔ اندازوں کے مطابق ملک میں 10 سے 16 فیصد بالغ افراد ہلکی سے درمیانی نوعیت کی نفسیاتی کیفیت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ مزید ایک سے 2 فیصد افراد شدید ذہنی بیماری کا شکار ہیں۔

قومی سطح پر، پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں ذہنی امراض برسوں تک معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ پاکستانی خواتین میں بھی مجموعی disability-adjusted life years میں ذہنی امراض سب سے بڑا حصہ ڈالتے ہیں۔

علاج تک رسائی کا فرق بھی بہت وسیع ہے۔ اندازے کے مطابق قابلِ تشخیص ذہنی بیماری رکھنے والے 80 فیصد یا اس سے زائد افراد کو کسی بھی سال باضابطہ ذہنی صحت کی دیکھ بھال میسر نہیں آتی۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے تقریباً 500 ماہرینِ نفسیات اور 200 کلینیکل سائیکالوجسٹ دستیاب ہیں، جبکہ ملک بھر میں نفسیاتی بستروں میں سے صرف تقریباً ایک فیصد بچے اور نوعمر افراد کے لیے مختص ہیں۔

ذہنی صحت کا بوجھ موسمیاتی اور آفات سے متعلق خطرات کے باعث مزید بڑھا ہے۔ 2022 کے سیلاب کے بعد، جس سے اندازاً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، سرکاری جائزوں میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سیلاب زدہ علاقوں کے ہر پانچ میں سے ایک رہائشی کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی۔ متاثرہ کمیونٹیز میں بنیادی جائزوں کے دوران جانچے گئے افراد میں 38 فیصد میں ڈپریشن اور 20 فیصد میں بے چینی پائی گئی۔ 2020 میں ذہنی بیماری کی معاشی لاگت تقریباً 617 ارب روپے لگائی گئی۔

وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ اس وقت صوبوں اور علاقوں کی مشاورت سے نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026 تا 2035 بھی تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد قومی وعدوں کو صوبائی اور علاقائی سطح پر عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ سمٹ اس پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

وزیر مملکت برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ ڈاکٹر ملک مختار احمد نے کہا، “بہت عرصے تک ذہنی صحت کو عوامی ذمہ داری کے بجائے نجی مشکل سمجھا گیا۔ شواہد اب اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ذہنی بیماری آج اس ملک میں برسوں تک معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے کی واحد سب سے بڑی وجہ ہے۔ یہ ہمارے صحت کے نظام کے کنارے پر نہیں بلکہ اس کے مرکز میں ہے، اور ہماری پالیسی کا ردِعمل بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرنا چاہیے۔”

پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ارکانِ پارلیمنٹ، اقوامِ متحدہ کے شراکت داروں، قومی و بین الاقوامی ماہرینِ ذہنی صحت، تعلیمی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور ذہنی صحت کے تجربے سے گزرنے والے افراد کو اکٹھا کیا جائے گا۔

دو روزہ پروگرام میں بچوں اور نوعمر افراد کی ذہنی صحت پر توجہ دی جائے گی، جس میں South Asia Child and Adolescent Mental Health Landscape Analysis کا اجرا بھی شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ خودکشی کی روک تھام، نشہ آور اشیا کے استعمال، ڈیجیٹل ذہنی صحت اور جدت، اور موسمیاتی اثرات سے مضبوط ذہنی صحت کے نظام پر بھی گفتگو ہوگی۔ آفات کے خطرات میں کمی اور موسمیاتی موافقت کی منصوبہ بندی میں ذہنی صحت اور نفسیاتی و سماجی معاونت کے انضمام کو بھی پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔

ڈاکٹر ملک مختار احمد نے کہا، “پاکستان نے بھاری قیمت چکا کر یہ سیکھا ہے کہ سیلابی پانی زمین سے تو بہت پہلے اتر جاتا ہے، مگر ذہن سے دیر سے اترتا ہے۔ ہمارے بچے اسے اب بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ جو صحت کا نظام مستقبل کے لیے تیار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اسے اس حقیقت کے لیے بھی تیار ہونا ہوگا۔”

وزارت کے مطابق سمٹ سے ذہنی صحت کے لیے سیاسی اور ادارہ جاتی عزم کو مضبوط بنانے کی توقع ہے۔ اس کے نتیجے میں Islamabad Declaration on Mental Health کی منظوری اور مساوی، کمیونٹی پر مبنی اور موسمیاتی اثرات سے مضبوط خدمات کے لیے ترجیحی اقدامات کی نشاندہی متوقع ہے۔ ان اقدامات میں ذہنی صحت کو بنیادی صحت، اسکولوں اور آفات سے نمٹنے کی تیاری میں شامل کرنا بھی شامل ہے۔

سمٹ میں پالیسی، تحقیق اور خدمات کے ڈیزائن میں lived experience رکھنے والے افراد کی بامعنی شمولیت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ اسی طرح WHO، UNICEF، اکیڈیمیا، عالمی پاکستانی ڈائسپورا، ترقیاتی شراکت داروں اور مخیر اداروں کے ساتھ شراکت داری اور سرمایہ کاری کو متحرک کیا جائے گا تاکہ ذہنی صحت کے لیے یونیورسل ہیلتھ کوریج کی جانب پیش رفت ہو سکے۔

ڈاکٹر ملک مختار احمد نے کہا، “ہم کسی شیلف میں ایک اور دستاویز رکھنے کے لیے جمع نہیں ہو رہے۔ ہم فنانسنگ، افرادی قوت اور ایسی خدمات کے بارے میں وعدے کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں جو لوگوں تک وہاں پہنچیں جہاں وہ حقیقتاً رہتے ہیں، اور پھر انہی وعدوں پر ہماری کارکردگی کو پرکھا جائے۔”

Share This Article