اسلام آباد، 17 ستمبر 2026ء: پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (آئی سی ٹی پیرا) نے اسلام آباد کے نجی تعلیمی شعبے میں پیپر لیس ریگولیشن، شفافیت، ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی سہولت کو بہتر بنانے کے لیے ’’پیرا ڈیجیٹل سروسز‘‘ کا آغاز کر دیا۔
اس سلسلے میں تقریب فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای)، اسلام آباد کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں سینئر سرکاری افسران، ماہرینِ تعلیم، نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے جامع ڈیجیٹل سروسز متعارف کرانے پر آئی سی ٹی پیرا کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری امور کو زیادہ شفاف، قابلِ رسائی اور شہری دوست بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال قابلِ تحسین ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شفافیت اچھی حکمرانی اور جمہوریت کا بنیادی ستون ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی اداروں میں شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آن لائن رجسٹریشن و تجدید، ای لائسنسنگ، شکایات کے ازالے، تصدیق اور مائیگریشن جیسی سہولیات جدید ریگولیٹری نظام کی ضرورت ہیں، محض اختیاری خدمات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں اور تعلیمی اداروں کو غیر ضروری کاغذی کارروائی، تاخیر اور سرکاری دفاتر کے بار بار چکروں کے بغیر بنیادی ریگولیٹری خدمات تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
اس موقع پر چیئرمین آئی سی ٹی پیرا ڈاکٹر غلام علی ملاح نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی مسلسل معاونت، رہنمائی اور حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیرا کے اصلاحاتی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں وزارت کا کردار اہم ہے۔
ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ جدید ریگولیٹر کا کردار صرف نفاذ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ریگولیٹرز کو سہولت کار بھی ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’ہماری ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں کو سہولت فراہم کریں، ساتھ ہی معیاری تعلیم، ادارہ جاتی جوابدہی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائیں۔‘‘
انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں نجی تعلیمی شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ آئی سی ٹی میں مجموعی طلبہ داخلوں کا تقریباً 60 فیصد نجی تعلیمی اداروں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نمایاں حصے کے پیش نظر نجی اداروں کے ساتھ تعمیری رابطہ، مؤثر ریگولیشن اور معیار کی ضمانت اسلام آباد کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر ملاح نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی اصلاح ہے، جس کا مقصد ریگولیٹری خدمات کو تیز، آسان، زیادہ شفاف اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے کاغذی کارروائی میں کمی، غیر ضروری جسمانی حاضری کے رجحان کو کم کرنے اور متعلقہ فریقوں کو زیادہ جوابدہ ریگولیٹری ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پیرا ڈیجیٹل سروسز کا اجرا ڈیجیٹل گورننس، شفافیت، کاروبار میں آسانی، معیار کی یقین دہانی اور شہری مرکز عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اتھارٹی کے وسیع عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اقدام حکومت کے اس وژن کی بھی تائید کرتا ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری اداروں کو جدید بنایا جا رہا ہے اور سرکاری خدمات کو شہریوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ممبر اکیڈمکس آئی سی ٹی پیرا امتیاز علی قریشی نے اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر پیش کیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی سرپرستی، چیئرمین آئی سی ٹی پیرا کی قیادت، شریک تعلیمی اداروں، افسران اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو سراہا جنہوں نے اس اقدام کے کامیاب اجرا میں کردار ادا کیا۔
