گوگل کا اے آئی موسمی ماڈل ویدر نیکسٹ 3 متعارف، ہر گھنٹے تازہ پیش گوئی ممکن

newsdesk
3 Min Read
گوگل ڈیپ مائنڈ اور گوگل ریسرچ کا ویدر نیکسٹ 3 مقامی سطح پر ہر گھنٹے تازہ موسمی پیش گوئیاں فراہم کرے گا۔

کراچی: گوگل ڈیپ مائنڈ اور گوگل ریسرچ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی عالمی موسمی پیش گوئی کا جدید ماڈل ویدر نیکسٹ 3 متعارف کرا دیا ہے، جسے مقامی سطح پر حقیقی وقت کے قریب موسمی معلومات زیادہ تفصیل کے ساتھ فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

گوگل کے مطابق ویدر نیکسٹ 3 براہ راست جیو اسٹیشنری سیٹلائٹ موزائکس اور زمینی موسمی مراکز کے حقیقی ڈیٹا کو استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار سے روایتی، سست اور زیادہ کمپیوٹنگ وسائل استعمال کرنے والے عددی اندازوں پر انحصار کم کیا گیا ہے۔

نیا نظام دن کے ہر گھنٹے تازہ موسمی پیش گوئیاں جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 5 کلومیٹر تک کی مقامی سطح پر معلومات فراہم کرتا ہے۔ گوگل کے مطابق یہ ریزولوشن اس کے سابقہ ماڈل کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ واضح ہے۔

ویدر نیکسٹ 3 سطح زمین کے درجہ حرارت اور نمی کو 5 کلومیٹر یعنی 0.05 ڈگری تک، جبکہ سطحی ہواؤں کو 10 کلومیٹر یعنی 0.1 ڈگری تک سمجھنے اور پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے ان علاقوں میں بھی زیادہ مقامی نوعیت کی موسمی معلومات دستیاب ہو سکیں گی جہاں ماضی میں پیش گوئی کی سہولت نسبتاً محدود رہی ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس ماڈل سے بارش کی پیش گوئی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اہم بارشی معیارات پر روایتی عددی موسمی پیش گوئی کے بنیادی نظاموں کے مقابلے میں غلطی کے پیمانوں میں 50 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق طوفانوں، موسمی محاذوں اور شدید موسم کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں ہر گھنٹے نئی پیش گوئی اہم اضافی وقت فراہم کر سکتی ہے۔

نیا ماڈل صاف توانائی کے شعبے کے لیے بھی مخصوص معلومات فراہم کرتا ہے، جن میں 100 میٹر ٹربائن کی بلندی پر ہوا کی رفتار، مختلف تہوں میں بادلوں کی صورتحال اور شمسی شعاعوں سے متعلق ڈیٹا شامل ہے۔ گوگل کے مطابق یہ معلومات گرڈ آپریٹرز، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ویدر نیکسٹ 3 کو آج سے گوگل سرچ، جیمنائی ایپ، گوگل میپس، گوگل میپس پلیٹ فارم ویدر اے پی آئی اور گوگل ارتھ انجن میں شامل کر دیا گیا ہے۔ گوگل کے مطابق اس اپ ڈیٹ سے طویل مدت کی موسمی پیش گوئیوں میں بھی واضح بہتری آئے گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک دن یا اس سے زیادہ پہلے کی منصوبہ بندی کرنے والے صارفین کو بارش کی پیش گوئی میں 50 فیصد تک زیادہ درستگی ملے گی، جبکہ سب سے زیادہ بہتری ان خطوں میں دیکھی جائے گی جہاں ماضی میں موسمی پیش گوئیاں کم قابل اعتماد رہی ہیں۔

Share This Article