اسلام آباد، 8 ستمبر 2026ء — سینیٹ آف پاکستان نے قانون سازی سے متعلق امور کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کے لیے اپنی خصوصی موبائل ایپلی کیشن کا اجراء کر دیا ہے۔ یہ اقدام ملک میں ٹیکنالوجی سے آراستہ اور کاغذی کارروائی سے پاک پارلیمان کے قیام کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریبِ اجراء میں قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ بھی تقریب میں موجود تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے سینیٹ کی موبائل ایپلی کیشن کو پاکستان کے ڈیجیٹل نیشن ایجنڈے کی سمت ایک نمایاں قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی ڈیجیٹلائزیشن جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاس ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ڈیجیٹل گورننس کو عملی شکل دیتا ہے، جو ڈیزائن کے لحاظ سے خود مختار، صلاحیت کے اعتبار سے مقامی اور ڈھانچے کے لحاظ سے جوابدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں کارکردگی محض انتظامی آسانی نہیں بلکہ جمہوری جوابدہی کا بھی تقاضا ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے اس اقدام کو آگے بڑھانے پر سینیٹ سیکرٹریٹ کی قیادت کو سراہا۔ انہوں نے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاستی اداروں میں ایسے منصوبوں کے تسلسل کے لیے تکنیکی مہارت، بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی فریم ورکس کی فراہمی میں تعاون جاری رکھا جائے گا۔
نئی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے سینیٹرز اپنے اسمارٹ فونز اور ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز پر قانون سازی کی دستاویزات، آرڈر آف دی ڈے، بلز، قراردادوں، کمیٹی رپورٹس اور دیگر پارلیمانی امور تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سہولت سے چھپی ہوئی دستاویزات پر انحصار کم ہوگا اور قانون سازی کے عمل کو زیادہ منظم بنایا جا سکے گا۔
ایپلی کیشن میں سینیٹ کے ایجنڈے، بلز، اجلاسوں کے شیڈول، قانون سازی سے متعلق دستاویزات کے ڈیجیٹل ذخیرے، تحاریک اور کمیٹی کارروائیوں تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ جاری پارلیمانی امور سے متعلق بروقت نوٹیفکیشنز بھی اس نظام کا حصہ ہوں گے، جس سے کاغذی طریقہ کار پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔
سینیٹ کی یہ موبائل ایپلی کیشن پاکستان میں ای گورننس کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔ اسی نوعیت کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں قومی اسمبلی اور متعدد صوبائی اسمبلیوں میں بھی جاری ہیں۔
حکومت کی جانب سے عوامی اداروں میں ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کی ہم آہنگی کے لیے مرکزی وزارت کے طور پر وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے کہا ہے کہ وہ اس ایپلی کیشن کے کامیاب نفاذ اور مسلسل بہتری کے لیے پارلیمان کی معاونت جاری رکھے گی۔
