آئی بی سی سی فورم کا مری اجلاس ختم، امتحانی نظام میں یکسانیت اور شفافیت کے لیے فیصلے

newsdesk
7 Min Read
آئی بی سی سی فورم کے 184ویں اجلاس میں امتحانی نظام میں شفافیت، یکسانیت اور فہم پر مبنی اسیسمنٹ کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔

اسلام آباد، 5 ستمبر 2026ء: انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) فورم کا 184واں دو روزہ اجلاس مری میں اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس میں ملک بھر کے امتحانی نظام کو رٹہ کلچر سے نکال کر فہم، تصوراتی سوچ اور معیاری جانچ کی طرف لے جانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے، جبکہ شفافیت، یکسانیت اور پاکستانی اسناد کی بین الاقوامی قبولیت کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں ملک بھر کے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرپرسنز، تکنیکی تعلیمی بورڈز، نصاب بورڈز اور ٹیکسٹ بک بورڈز کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔

شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے آئی بی سی سی فورم کے نیشنل کوآرڈینیٹر عنایت اللہ وسیم نے کہا کہ امتحانی اصلاحات کی کامیابی کے لیے تمام بورڈز کی فعال شمولیت اور مشترکہ ذمہ داری نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق آئی بی سی سی فورم تعلیمی بورڈز کے لیے ایک اہم قومی پلیٹ فارم ہے جہاں وہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں، کامیاب طریقہ کار شیئر کر سکتے ہیں اور امتحانی نظام کو درپیش مسائل کے مشترکہ حل تلاش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بورڈز کے درمیان بہتر رابطہ اور طے شدہ اصلاحات پر یکساں عمل درآمد ہی ملک میں منصفانہ، معیاری اور قابل اعتماد امتحانی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم کی ان ہدایات کو خاص طور پر زیر غور لایا گیا جن کا مقصد ملک بھر کے امتحانی نظام کو معیاری اور یکساں بنانا ہے۔ فورم نے اسیسمنٹ اور امتحانی طریقہ کار میں ہم آہنگی بڑھانے کے لیے اقدامات اختیار کیے، جن سے پاکستانی تعلیمی اسناد کی ساکھ اور عالمی سطح پر شناخت کو تقویت ملے گی۔

فورم کو بتایا گیا کہ سندھ کے امتحانی بورڈز، فیڈرل بورڈ، آزاد جموں و کشمیر بورڈ، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بورڈ، آغا خان بورڈ اور ضیاء الدین بورڈ نئی گریڈنگ پالیسی نافذ کر چکے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس 40 فیصد مقرر کیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں نظرثانی شدہ گریڈنگ فارمولے کے نفاذ میں سہولت کے لیے آگاہی سیشنز اور ورکشاپس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

طلبہ کے ریکارڈ کو زیادہ شفاف، قابل شناخت، قابل رسائی اور قابل تصدیق بنانے کے لیے فورم نے ایس ایس سی اور ایچ ایس ایس سی سرٹیفکیٹس پر ب فارم یا سی این آئی سی نمبر شامل کرنے پر اتفاق کیا۔

طلبہ کی حوصلہ افزائی کے ضمن میں فورم نے فیصلہ کیا کہ آئی بی سی سی بورڈز کے ٹاپرز کے لیے اسکالرشپس اور بیرون ملک مواقع فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے لیے ونٹر اور سمر کیمپس بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ انہیں وسیع تر تعلیمی تجربات، قیادت اور ایکسپوژر کے مواقع حاصل ہو سکیں۔

فورم نے مزید 12 دینی مدارس کی اسناد کو ایس ایس سی اور ایچ ایس ایس سی کے مساوی قرار دینے کی سفارش کی۔ اس فیصلے کے بعد مساواتی فریم ورک میں شامل مدارس کی مجموعی تعداد 26 ہو جائے گی۔

غیر ملکی امتحانی نظام کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے بھی ایک اہم فیصلہ کیا گیا۔ فورم نے اتفاق کیا کہ ایسے طلبہ جنہوں نے کم از کم دو سائنس مضامین پاس کیے ہوں، انہیں سائنس گروپ کی مساوات دی جائے گی۔ اس اقدام سے طلبہ کو آئندہ تعلیمی راستوں کے انتخاب میں زیادہ سہولت اور لچک ملے گی۔

اجلاس میں تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے ملک بھر میں یکساں کیلنڈر تیار کرنے اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے مشترکہ رہنما اصول اور طریقہ کار وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، تاکہ امتحانی بورڈز میں شفافیت، انصاف اور یکسانیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اس موقع پر بی آئی ایس ای کوہاٹ، بی آئی ایس ای کوئٹہ اور فیڈرل بورڈ نے اپنے بہترین طریقہ کار، جدید اقدامات اور ان کے نتائج پیش کیے، تاکہ دیگر بورڈز بھی قابل عمل ماڈلز سے استفادہ کر سکیں۔

امتحانی اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے آئی بی سی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے حکومت پنجاب کی جانب سے امتحانی بورڈز کے چیئرپرسنز کی میرٹ پر تقرری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اہل اور پیشہ ور قیادت آئی بی سی سی فورم کی افادیت میں اضافہ کر رہی ہے اور امتحانات کو رٹہ سسٹم سے تصوراتی اسیسمنٹ کی طرف منتقل کرنے کی قومی کوشش کو مضبوط بنا رہی ہے۔

ڈاکٹر غلام علی ملاح نے حکومت سندھ اور سندھ کے امتحانی بورڈز کے چیئرپرسنز کی جانب سے صوبے بھر میں ای مارکنگ کے نفاذ کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام امتحانی نظام میں شفافیت، کارکردگی اور ساکھ بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی بی سی سی فورم کے تحت جاری اصلاحات ایک وسیع قومی کوشش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایسا امتحانی نظام قائم کرنا ہے جو محض یادداشت کے بجائے فہم کو پرکھے، حقیقی سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرے، ٹیکنالوجی کو اپنائے اور پاکستانی تعلیمی اسناد کی قومی و بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط بنائے۔

فورم نے امتحانی، تکنیکی، نصابی اور ٹیکسٹ بک بورڈز کے درمیان رابطے کو مزید مستحکم کرنے اور پاکستان بھر میں شفاف، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ، طلبہ دوست اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اسیسمنٹ نظام کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس کی کارروائی آئی بی سی سی فورم کے سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آئی بی سی سی محمد عثمان خان نے چلائی۔

Share This Article