پاکستان اور ازبکستان کے تاریخی رشتے موسیقی کی دھنوں میں گونج اٹھے

newsdesk
6 Min Read
پی این سی اے اسلام آباد میں ازبکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر ثقافتی کنسرٹ منعقد ہوا۔

اسلام آباد، 29 اگست 2026ء: وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات رسمی سفارت کاری سے کہیں بڑھ کر ہیں، کیونکہ دونوں ممالک مشترکہ تاریخ، ثقافت اور روحانی ورثے کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

وہ ہفتہ کو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں ازبکستان کے سفارت خانے کے زیر اہتمام ازبکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ خصوصی ثقافتی کنسرٹ ’’ازبکستان، پاکستان: دوستی اور بھائی چارے کی دھنیں‘‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں، اعلیٰ حکام اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

وفاقی وزیر نے ازبکستان کی حکومت اور عوام کو آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارک باد دی اور کہا کہ تقریب کا عنوان دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلق، محبت اور بھائی چارے کی نہایت خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔

اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ موسیقی کو کسی ترجمے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ براہ راست دلوں تک پہنچتی ہے اور ہمیں ان مشترک قدروں کا احساس دلاتی ہے جو پاکستان اور ازبکستان کو قریب لاتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان آمد پر ازبک فنکاروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پرفارمنس سے پاکستانی عوام کو ازبکستان کی ثقافتی وسعت اور موسیقی کی روایات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ ثقافتی شراکت داری کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورثہ، عجائب گھروں، ادب، موسیقی، پرفارمنگ آرٹس، روایتی دستکاریوں اور نمائشوں کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ دونوں ممالک کے نوجوان فنکاروں، ادیبوں اور ثقافتی شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کے لیے ملاقات، سیکھنے اور مشترکہ کام کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ عوامی سطح پر روابط مزید مستحکم ہوں۔

اورنگزیب خان کھچی نے ثقافتی شام کے انعقاد پر ازبکستان کے سفارت خانے اور سفیر الیشر تختایف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسی تقریبات پاکستان اور ازبکستان کے عوام کو قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ازبکستان کے سفیر الیشر تختایف نے کہا کہ یہ کنسرٹ ازبکستان کے عوام کی جانب سے پاکستان کے دوست عوام کے لیے ایک ’’ثقافتی تحفہ‘‘ ہے، جو دونوں برادر ممالک کی گہری دوستی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہ ریشم کے ذریعے دونوں معاشروں کے درمیان صدیوں سے علم، ادب، سائنس، موسیقی اور فنون کا تبادلہ جاری رہا ہے۔ سفیر نے ظہیر الدین محمد بابر کے مشترکہ ورثے کا بھی ذکر کیا اور حالیہ اقدامات کو اجاگر کیا جن سے عوامی روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔

الیشر تختایف نے بتایا کہ ان اقدامات میں اسلام آباد میں تاشقند اسٹریٹ کا نام رکھنا، بابر پارک منصوبہ، سمرقند اور اسلام آباد کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات، جبکہ ترمذ اور پشاور کے درمیان سسٹر سٹی روابط شامل ہیں۔

ازبک سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، علمی، تعلیمی اور کھیلوں کے تبادلوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ازبکستان میں اردو زبان اور تحقیق کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ازبک صدر کے پاکستان کے سرکاری دورے سے ثقافتی اور انسانی شعبوں میں تعاون کو نئی تحریک ملی، جس میں عظیم بابری خاندان کے ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے تعاون بھی شامل ہے۔

سفیر الیشر تختایف نے اعلان کیا کہ رواں سال پاکستان میں ’’ازبکستان کے ثقافتی ایام‘‘ کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق اس موقع پر ازبکستان کا ایک بڑا ثقافتی وفد پاکستان آئے گا جو ملک کے تاریخی ورثے، روایتی فنون اور جدید ثقافتی کامیابیوں کو پیش کرے گا۔

انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تاشقند سے لاہور اور اسلام آباد کے لیے ہفتہ وار چھ براہ راست پروازیں چل رہی ہیں، جبکہ تاشقند اور کراچی کے درمیان براہ راست پروازیں 3 ستمبر سے شروع ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فضائی رابطے سیاحت، تعلیم، کاروبار، ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط کو مزید آسان بنائیں گے۔

ثقافتی شام میں ممتاز ازبک فنکاروں نے موسیقی اور روایتی رقص پر مشتمل دلکش پروگرام پیش کیا۔ سریلی دھنوں، رنگا رنگ ملبوسات اور دل آویز روایتی رقص نے حاضرین کو محظوظ کیا اور ازبکستان کی متنوع ثقافتی روایات کی جھلک پیش کی۔

فنکاروں نے موسیقی اور فن کے عالمگیر اظہار کے ذریعے پاکستان اور ازبکستان کے عوام کے درمیان دوستی، بھائی چارے اور باہمی احترام کے دیرپا رشتوں کو اجاگر کیا۔ پرفارمنسز نے دونوں ممالک کی تاریخی اور ثقافتی قربت کے ساتھ ساتھ ثقافتی تبادلوں کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا۔

تقریب کا اختتام دونوں برادر ممالک کے درمیان دوستی اور خیرسگالی کے جذبات کے ساتھ ہوا۔ سفیر الیشر تختایف نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے ثقافتی روابط آنے والے وقت میں مزید فروغ پائیں گے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Share This Article