اسلام آباد (سٹی رپورٹر) ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ (ڈبلیو ڈی ایف) نے ملک میں خواتین کے قتل اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے ملک گیر ’’فیمیسائیڈ ایمرجنسی‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے حنا جاوید قتل کیس سمیت خواتین کے قتل کے تمام واقعات کی مکمل، شفاف اور فرانزک بنیادوں پر تحقیقات، نامزد اور ملوث ملزمان کی گرفتاری اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ڈی ایف کی رہنماؤں اور حنا جاوید کی کزن و خاندانی ترجمان صباح بانو ملک نے کہا کہ 45 سالہ ڈیجیٹل میڈیا پروفیشنل حنا جاوید کو 20 اگست کو راولپنڈی میں ان کے گھر میں مبینہ طور پر باندھ کر گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا، جبکہ واقعے کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حنا جاوید کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم ایف آئی آر میں نامزد سسر کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آئی۔
صباح بانو ملک کا کہنا تھا کہ حنا جاوید ایک خوددار اور حساس خاتون تھیں جو اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قتل اور شواہد چھپانے میں ملوث ہر فرد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور تفتیش کا عمل شفاف اور فرانزک بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
ڈبلیو ڈی ایف کی وفاقی سیکرٹری تعلیم زویا رحمان نے کہا کہ خواتین کے قتل اور گھریلو تشدد کے خلاف ریاست کو قومی سطح پر مربوط اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق گھریلو تشدد کو نجی یا خاندانی معاملہ سمجھنے کے بجائے سنگین خطرہ تصور کیا جانا چاہیے، جبکہ پولیس کو ہر شکایت پر فوری رسک اسیسمنٹ کا پابند بنایا جائے۔ انہوں نے متاثرہ خواتین کے لیے فوری تحفظ، قانونی معاونت، محفوظ رہائش اور مالی مدد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔
زویا رحمان نے ملک میں قومی فیمیسائیڈ رجسٹر قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں خواتین کی سابقہ شکایات، مقتولہ اور ملزم کے تعلق، مقدمے کی کارروائی اور نتائج کا ریکارڈ شامل ہونا چاہیے، جبکہ اعداد و شمار باقاعدگی سے عوام کے سامنے لائے جائیں۔
ڈبلیو ڈی ایف اسلام آباد راولپنڈی یونٹ کی جنرل سیکرٹری انعم راٹھور نے کہا کہ چھ ماہ کے دوران سینکڑوں خواتین کے قتل کے باوجود ریاست محض تعزیتی بیانات تک محدود نہیں رہ سکتی۔ مقررین نے ساحل کی ’’سکس منتھس کرول نمبرز رپورٹ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3,172 واقعات میڈیا مانیٹرنگ کے ذریعے ریکارڈ ہوئے، جن میں 644 قتل اور 132 نام نہاد غیرت کے نام پر قتل شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف میڈیا میں رپورٹ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہیں۔
ڈبلیو ڈی ایف کی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور وکیل نیہا توصیف نے کہا کہ گھریلو تشدد کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد انتہائی کمزور ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس ہر شکایت پر فوری خطرے کا جائزہ لے اور قابلِ عمل حفاظتی اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن خواتین کی زندگی میں گھریلو تشدد کی تاریخ موجود ہو، ان کی مشتبہ خودکشیوں کی دوبارہ مؤثر تحقیقات کا نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔
ردا رشید نے ٹریڈ یونینز، طلبہ تنظیموں، خواتین کی تنظیموں اور جمہوری تحریکوں سے اپیل کی کہ خواتین اور خواجہ سراؤں کے خلاف قتل و تشدد کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد اور چارٹر کی حمایت کی جائے۔
