راولپنڈی: پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں ’’جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کے لیے پراجیکٹ پروپوزل کی تیاری میں استعدادِ کار میں اضافہ‘‘ کے عنوان سے تین روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا آغاز ہو گیا۔
ورکشاپ کا مقصد محققین اور فیکلٹی ارکان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ تحقیق و ترقی کے ایسے معیاری، مسابقتی اور مؤثر منصوبہ جاتی پروپوزلز تیار کر سکیں جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر قابلِ قبول ہوں۔ ورکشاپ کا اہتمام پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف سوائل اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان کی سرپرستی میں کیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر (ستارۂ امتیاز) مہمانِ خصوصی تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی ڈونر اداروں سے تحقیق و ترقی کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے میں منظم اور مضبوط پراجیکٹ پروپوزلز بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے محققین پر زور دیا کہ وہ اپنی تحقیق کو معاشرے کو درپیش اہم سماجی مسائل سے جوڑیں اور ان مسائل کے حل کے لیے جدید، قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی تجاویز سامنے لائیں۔
پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ تحقیق کو صرف علمی جرائد میں مقالوں کی اشاعت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے حقیقی زندگی کے مسائل کے حل اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے نتیجہ خیز کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ جامعات صرف تعلیم و تدریس کے ادارے نہیں بلکہ علم کی تخلیق، جدت، مسائل کے حل اور سماجی تبدیلی کے مراکز بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ورکشاپ ایسی تحقیقی فضا کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے جس میں اخلاقی طور پر درست اور سائنسی بنیادوں پر مضبوط تحقیقی خیالات کو کامیاب منصوبوں، مؤثر اختراعات اور عملی حل میں بدلا جا سکے۔
وائس چانسلر نے امید ظاہر کی کہ ورکشاپ میں شریک محققین قومی اور بین الاقوامی ماہرین کے علم، تجربے اور مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
انسٹی ٹیوٹ آف سوائل اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کے ڈائریکٹر اور بین الاقوامی ورکشاپ کے کنوینر پروفیسر ڈاکٹر عظیم خالد نے بتایا کہ ورکشاپ ہائبرڈ موڈ میں منعقد کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ورکشاپ میں پانچ تکنیکی سیشنز شامل ہیں جبکہ مختلف تعلیمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ تجربہ رکھنے والے 14 قومی و بین الاقوامی ماہرین اس میں شریک ہیں۔
