کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا شدت اختیار کر گئی ہے جہاں ہر 30 منٹ میں ایک شخص اس مرض کے باعث جان سے جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے اپنے ہنگامی امدادی فنڈ سے مزید تین کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی امور کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے فنڈز کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایبولا کی وبا اسے روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مرض کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اور اس کے مقابلے کے لیے اقدامات کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر، اوچا، نے وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ایتوری میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں میں معاونت کے لیے مزید 20 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ تاہم ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے مزید عملے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وبا سے اب تک 2,184 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو ایبولا کے تمام مصدقہ متاثرین کا تقریباً 47 فیصد بنتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ترجمان ڈینائلا گروس نے بتایا کہ عالمی پروگرام برائے خوراک، ڈبلیو ایف پی، کل سے ایتوری اور دیگر صوبوں میں ایبولا متاثرین کا علاج کرنے والے مزید مراکز تک تیار کھانا پہنچانا شروع کرے گا۔
صوبہ شمالی کیوو اور جنوبی کیوو بھی ایبولا سے متاثر ہیں۔ ان علاقوں میں کانگو کی فوج اور روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 ملیشیا کے درمیان طویل عرصے سے لڑائی جاری ہے۔ ایتوری صوبہ وبا کا مرکز ہے، جہاں مجموعی طور پر رپورٹ ہونے والے 4,660 سے زائد مریضوں میں سے 3,400 سامنے آئے ہیں۔
مشرقی کانگو میں تقریباً 26 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ آبادی ایتوری میں رہتی ہے۔
جمعہ کو اقوام متحدہ کی بین الوکالتی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ٹام فلیچر نے کہا کہ دنیا کی بڑی امدادی تنظیموں نے عالمی سطح پر ایبولا کے خلاف امدادی سرگرمیاں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ڈینائلا گروس کے مطابق کانگو میں شہریوں کی ضروریات ایبولا سے نمٹنے کی موجودہ کوششوں سے کہیں زیادہ ہیں، اس لیے فوری طور پر مزید امداد درکار ہے۔
ٹام فلیچر نے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے چار اقدامات کو بنیادی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایبولا سے انتقال کرنے والے مریضوں کی محفوظ اور باوقار تدفین یقینی بنانے والی ٹیموں کی تعداد دوگنا کرنا ہوگی، علاج کی گنجائش تین گنا بڑھانا ہوگی، متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کا سراغ لگانے کا نظام بہتر بنانا ہوگا، اور وبا سے نمٹنے کے لیے زیادہ تجربہ کار منتظمین اور ماہرین تعینات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو صاف پانی، حفظان صحت کی سہولیات اور طبی امداد کی فراہمی جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو جاگنا ہوگا اور وبا پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔
