اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کو رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت عوامی ادارہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وکلا کی ڈگریوں، لائسنس منسوخی، سرکاری گرانٹس اور گورننگ باڈی کی کارروائی سے متعلق مانگی گئی معلومات 15 روز میں فراہم کی جائیں۔
یہ حکم سعدیہ مظہر بنام پاکستان بار کونسل کے عنوان سے دائر اپیل میں جاری کیا گیا۔ فیصلہ چیف انفارمیشن کمشنر شعیب احمد صدیقی اور انفارمیشن کمشنر اعجاز حسن اعوان نے جاری کیا۔
درخواست گزار نے معلومات کی آٹھ اقسام طلب کی تھیں۔ ان میں صوبہ وار پی بی سی ارکان یا لائسنس ہولڈرز کی تعداد، تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کرانے والوں کی تفصیل، تعلیمی اسناد کی تصدیق شدہ نقول جمع نہ کرانے پر جن وکلا کے لائسنس منسوخ ہوئے ان کی معلومات، اور جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر منسوخ کیے گئے لائسنسوں کی تفصیل شامل تھی۔
درخواست گزار نے ڈگریوں کی تصدیق سے متعلق سرکلرز اور نوٹیفکیشنز کی نقول بھی طلب کیں۔ اس کے علاوہ 2020 سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے موصول ہونے والی گرانٹس کی تفصیلات، رقوم اور تاریخوں سمیت، اور پاکستان بار کونسل گورننگ باڈی کے تازہ ترین اجلاس کے منٹس کی نقل بھی مانگی گئی۔
کمیشن کے روبرو اپنے جواب میں پاکستان بار کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک خودمختار قانونی ادارہ ہے جو اپنے فنڈز خود پیدا کرتا ہے، اس لیے وہ عوامی ادارے کی تعریف میں نہیں آتا۔ پی بی سی کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت کو اس پر نہ مالی کنٹرول حاصل ہے اور نہ انتظامی کنٹرول، تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان اس کے بلحاظ عہدہ رکن ہیں۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے پی بی سی کا مؤقف مسترد کر دیا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ پاکستان بار کونسل لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 کے تحت قائم ایک قانونی تنظیم ہے اور قانونی تعلیم، قانون کی ڈگریوں کی منظوری اور قانونی پیشہ اختیار کرنے والوں کی ضابطہ بندی سے متعلق اہم عوامی فرائض انجام دیتی ہے۔
کمیشن نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بار کونسلز کو عوامی فنڈز یا سرکاری گرانٹس ملتی ہیں اور ان کے دفاتر عوامی عمارتوں میں واقع ہیں۔
پی آئی سی نے فیصلہ دیا کہ پاکستان بار کونسل رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 2(ix)(g) اور (h) کے تحت عوامی ادارے کی تعریف میں آتی ہے۔ کمیشن نے مزید قرار دیا کہ مانگی گئی آٹھوں معلومات میں سے کوئی بھی قانون کے تحت استثنا کے زمرے میں نہیں آتی۔
اس بنا پر سیکرٹری پاکستان بار کونسل کو حکم دیا گیا کہ حکم موصول ہونے کے 15 روز کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم کی جائیں۔ کیس کی سماعت 2 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
