پاکستان، امریکہ نے فلبرائٹ۔ایچ ای سی تعاون کے نئے پانچ سالہ مرحلے کی منظوری دے دی

newsdesk
9 Min Read
ایچ ای سی اور یو ایس ای ایف پی کے درمیان فلبرائٹ۔ایچ ای سی تعاون کے نئے پانچ سالہ مرحلے کا آغاز۔

اسلام آباد، 11 اگست 2026ء: حکومتِ پاکستان اور امریکہ نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں دیرینہ تعاون کو آگے بڑھاتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے درمیان فلبرائٹ۔ایچ ای سی شراکت داری کے نئے پانچ سالہ معاہدے کی تجدید کر دی ہے۔ وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مطابق یہ معاہدہ تعلیمی معیار، انسانی وسائل کی ترقی، تحقیق اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔

وزارت کے مطابق اس شراکت داری کو آگے بڑھانے میں وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر کی قیادت اور مسلسل کوششوں نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ وزارت کی جانب سے پاک۔امریکہ تعلیمی تعاون، ادارہ جاتی روابط کے فروغ اور پاکستانی طلبہ، اسکالرز، اساتذہ اور پیشہ ور ماہرین کے لیے مواقع میں اضافے کے عمل کی قیادت کر رہی ہیں۔

محترمہ وجیہہ قمر کی قیادت میں ایک اہم پیش رفت پاک۔امریکہ ہائر ایجوکیشن ورکنگ گروپ کی تقریباً 14 سال بعد بحالی اور فعالیت بھی ہے۔ یہ ورکنگ گروپ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم، وظائف، تعلیمی نقل و حرکت، مہارتوں کی ترقی، تحقیقی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں مسلسل رابطے کا ادارہ جاتی فورم فراہم کر رہا ہے۔ وزارت کے مطابق فلبرائٹ۔ایچ ای سی شراکت داری کی تجدید اسی نئی رفتار کا اہم نتیجہ ہے۔

نیا پانچ سالہ معاہدہ مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2031-32 تک نافذ رہے گا۔ اس میں فلبرائٹ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز، پوسٹ ڈاکٹریٹ اسکالرز کے لیے وزٹنگ اسکالر پروگرام، فارن لینگویج ٹیچنگ اسسٹنٹ (ایف ایل ٹی اے) پروگرام اور ہیوبرٹ ایچ ہمفری فیلوشپ پروگرام شامل ہیں۔

معاہدے کے تحت پانچ سال کے دوران 66 پی ایچ ڈی اسکالرز کی معاونت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر پروگرام اسٹریمز کے ذریعے بھی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام پاکستانی اسکالرز اور ماہرین کو اعلیٰ تعلیم، معیاری تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارت کے مواقع فراہم کرتا رہے گا تاکہ وہ وطن واپسی پر پاکستان کی سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

مالیاتی انتظام کے تحت ایچ ای سی سالانہ کم از کم 4.54 ملین امریکی ڈالر فراہم کرے گا، جبکہ پانچ سالہ مدت کے لیے مجموعی مالیاتی عزم کی حد 6.48 ارب پاکستانی روپے مقرر کی گئی ہے۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق 30 جون تک 2 ملین امریکی ڈالر، 31 جنوری تک مزید 2 ملین امریکی ڈالر اور باقی رقم 30 اپریل تک دی جائے گی، تاہم یہ ادائیگیاں سرکاری فنڈز کے بروقت اجرا سے مشروط ہوں گی۔ یو ایس ای ایف پی کے پاس موجود ایچ ای سی فنڈز پر حاصل ہونے والا سود طلبہ گرانٹس میں دوبارہ لگایا جائے گا۔

وزارت کے مطابق امیدواروں کا انتخاب بدستور خالص میرٹ کی بنیاد پر ہوگا اور کسی مخصوص گروہ، علاقے یا زمرے کے لیے کوئی مقررہ کوٹہ نہیں رکھا جائے گا۔ ایچ ای سی انتخابی پینلز میں براہِ راست شریک ہوگا اور پاکستان کی قومی ترقی اور اسٹریٹجک ترجیحات سے ہم آہنگ ترجیحی شعبہ جات کی نشاندہی میں بھی کردار ادا کرے گا۔ اس طریقۂ کار کا مقصد پروگرام کو ابھرتی ہوئی قومی ضروریات سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے تعلیمی معیار، شفافیت اور شمولیت کو برقرار رکھنا ہے۔

پروگرام کی نگرانی اور اثرات کے جائزے کے لیے شراکت دار اداروں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ جائزہ کمیٹی سال میں دو بار اجلاس کرے گی۔ یو ایس ای ایف پی ایچ ای سی کو سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے فراہم کرے گا، جبکہ متعلقہ ریکارڈ مناسب نوٹس پر ایچ ای سی کے جائزے کے لیے دستیاب رہے گا۔ وزارت کے مطابق یہ اقدامات شفافیت، جوابدہی اور مالیاتی نظم و نسق کو مضبوط کریں گے۔

تجدید شدہ شراکت داری صرف وظائف تک محدود نہیں ہوگی۔ ایچ ای سی اور یو ایس ای ایف پی پاکستان بھر میں مشترکہ آگاہی اور رسائی کی سرگرمیاں بھی شروع کریں گے۔ ایچ ای سی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے بین الاقوامی تعلیمی مواقع کے بارے میں آگاہی کو پھیلایا جائے گا۔ معاہدے میں مستقبل میں فیکلٹی اور تعلیمی منتظمین کے تبادلوں سمیت دیگر علمی و تعلیمی اقدامات پر تعاون کے امکانات تلاش کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

یہ نیا معاہدہ فروری 2016ء میں طے پانے والی اصل فلبرائٹ۔ایچ ای سی پی ایچ ڈی شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھایا گیا ہے۔ اس پہلے مرحلے کے تحت مالی سال 2016 سے 2020 کے دوران 125 پاکستانی اسکالرز کی معاونت کے لیے 25.786 ملین امریکی ڈالر مختص کیے گئے تھے۔ یہ اقدام پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی رابطوں کے نتیجے میں سامنے آیا تھا، جن میں اکتوبر 2015ء میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما اور وزیرِ اعظم محمد نواز شریف کی ملاقات بھی شامل تھی، جبکہ اس کا تعلق جون 2015ء میں شروع ہونے والے یو ایس۔پاکستان نالج کوریڈور سے بھی تھا۔

وزارت کے مطابق موجودہ معاہدہ ایچ ای سی اور یو ایس ای ایف پی کے درمیان تقریباً ایک دہائی پر محیط تعاون کا ایک اور اہم سنگِ میل اور فلبرائٹ۔ایچ ای سی تعاون کا تیسرا مرحلہ ہے۔ اس شراکت داری نے پاکستان کی تعلیمی و تحقیقی استعداد بڑھانے، اعلیٰ تربیت یافتہ انسانی وسائل کی تیاری اور پاکستان و امریکہ کے درمیان تعلیمی اور عوامی سطح کے روابط کو مستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

تجدید شدہ معاہدے کی دستخطی تقریب یو ایس ای ایف پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر پیٹر موران کے والد کے انتقال کے باعث اپنی اصل تاریخ سے مؤخر کی گئی تھی۔ حکومتِ پاکستان، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ایچ ای سی اور پروگرام سے منسلک تمام فریقین نے ڈاکٹر پیٹر موران اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے ان حالات کے باوجود اس اہم شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے یو ایس ای ایف پی کے عزم کو سراہا۔

وزیرِ مملکت محترمہ وجیہہ قمر نے کہا کہ تعلیم پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط اور دیرپا پلوں میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق پاک۔امریکہ ہائر ایجوکیشن ورکنگ گروپ کی بحالی اور فلبرائٹ۔ایچ ای سی شراکت داری کی تجدید سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک تعلیمی تعاون کو مکالمے سے آگے بڑھا کر طلبہ، اسکالرز، جامعات اور اداروں کے لیے ٹھوس اور طویل مدتی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

حکومتِ پاکستان نے معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں اضافے، تحقیق و جدت کے فروغ، عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور بامقصد بین الاقوامی تعلیمی شراکت داریوں کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزارت کے مطابق محترمہ وجیہہ قمر کی قیادت میں پاک۔امریکہ تعلیمی تعاون کو مزید آگے بڑھایا جائے گا اور ادارہ جاتی شراکت داریوں کو پاکستان کے نوجوانوں اور علمی برادری کے لیے عملی مواقع میں تبدیل کیا جائے گا۔

وزارت نے کہا کہ فلبرائٹ۔ایچ ای سی معاہدے کی تجدید پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی فہم، علمی تبادلے، انسانی وسائل کی ترقی اور مشترکہ پیش رفت کے لیے تعلیمی سفارت کاری کی پائیدار اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

Share This Article