اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری ملک گیر احتجاجی تحریک کے سلسلے میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین اسلام آباد کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا، سابق رکن قومی اسمبلی و ڈپٹی جنرل سیکرٹریز حلقہ خواتین جماعت اسلامی عائشہ سید، عفت سجاد اور ناظمہ اسلام آباد قدسیہ ناموس نے خطاب کیا۔ شرکا خواتین نے پلے کارڈز، جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی کے خلاف اور پیٹرول لیوی کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔
انجینئر نصراللہ رندھاوا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور موجودہ معاشی پالیسیاں عوام کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر لیٹر پیٹرول پر تقریباً 150 روپے پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ملکی معیشت ظلم پر مبنی نظام کی گرفت میں ہے۔
نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ گزشتہ سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1600 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ اسی عرصے میں آئی پی پیز کو 3400 ارب روپے ادا کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 16 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ میں سے 8300 ارب روپے سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوئے، جبکہ 83 ہزار ارب روپے کے مجموعی قرضوں میں سے 62 ہزار ارب روپے حکمرانوں نے اپنے ہی بینکوں سے حاصل کیے۔ ان کے مطابق بینکوں اور آئی پی پیز کے مالکان خود پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور اس کا خمیازہ عوام مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے پیٹرول لیوی کو جگا ٹیکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ہر صورت ختم کرنا ہوگا اور حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک مزید پھیلے گی، کل شام پانچ بجے 26 نمبر چونگی پر اسلام آباد کے شہری بڑی تعداد میں جمع ہوں گے جہاں تحریک کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو 26 نمبر موٹروے چوک بند کیا جائے گا اور یہ اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی فوری ختم کی جائے، بصورت دیگر عوامی ردعمل میں مزید شدت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان نسل بھی اس تحریک میں بھرپور انداز میں شامل ہوئی تو حکمرانوں کے لیے حالات کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔
سابق رکن قومی اسمبلی عائشہ سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں نکلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی عوام پر مسلط کیا گیا بھاری ٹیکس ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ہر گھر کے بجٹ کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب معاملہ صرف مطالبات تک محدود نہیں رہا، عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت کی اپیل پر خواتین اس عوامی تحریک میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔
عفت سجاد اور قدسیہ ناموس نے کہا کہ خواتین مہنگائی، پیٹرولیم لیوی اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف جاری تحریک میں بھرپور حصہ لیں گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو معاشی ریلیف کی فراہمی تک جماعت اسلامی کی پرامن احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
