پاکستان اور قازقستان کا علمی و سائنسی تعاون کے فروغ کے لیے ریسرچ سینٹر قائم کرنے پر اتفاق

newsdesk
4 Min Read
الماتی میں وزیر مملکت وجیہہ قمر کی الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ژانسیت توئیمبایف سے ملاقات۔

الماتی، قازقستان، 26 جولائی 2026ء — پاکستان اور قازقستان نے اعلیٰ تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے قازقستان پاکستان ریسرچ سینٹر قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاقِ رائے وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر کی جمہوریہ قازقستان کے سرکاری دورے کے دوران الماتی میں الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے چیئرمین مینجمنٹ بورڈ و ریکٹر پروفیسر ژانسیت توئیمبایف سے ملاقات میں ہوا۔ ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و سائنسی روابط کو مضبوط بنانے کے حوالے سے نتیجہ خیز قرار دیا گیا۔

ملاقات کے دوران طے پایا کہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی میں قازقستان پاکستان ریسرچ سینٹر قائم کیا جائے گا۔ یہ مرکز دونوں ملکوں کی جامعات کے درمیان ادارہ جاتی روابط کے فروغ کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جہاں مشترکہ تحقیق، تعلیمی تبادلوں، اختراع اور سائنسی منصوبوں کی مشترکہ تیاری کو آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیر مملکت وجیہہ قمر نے الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے بین الاقوامی مقام، تعلیمی معیار اور تحقیقی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق مضبوط تعلیمی شراکت داریاں علم، جدت اور باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ علاقائی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

محترمہ وجیہہ قمر نے اس موقع پر پاکستانی جامعات کی مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اختراع اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں ہونے والی ترقی الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ تحقیق، علم کے تبادلے اور جدت کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ قازقستان پاکستان ریسرچ سینٹر کا قیام پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعلیمی اور سائنسی تعاون کا نیا باب کھولے گا۔

وزیر مملکت نے الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کی قیادت اور فیکلٹی کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ پاکستان کی ممتاز جامعات کے ساتھ شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لے سکیں۔ اس دورے کا مقصد اساتذہ اور طلبہ کی نقل و حرکت کو مضبوط بنانا، مشترکہ تحقیقی پروگراموں کو وسعت دینا، تعلیمی تبادلوں میں سہولت فراہم کرنا اور مشترکہ سائنسی تربیت و اختراع کو فروغ دینا ہوگا۔

پروفیسر ژانسیت توئیمبایف نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور پاکستانی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے روابط کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ روابط تعلیمی نقل و حرکت کے پروگراموں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، بین الاقوامی کانفرنسوں اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ریسرچ سینٹر کا قیام طویل المدتی سائنسی تعاون کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان علمی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے مجوزہ اقدامات کی توثیق کی گئی اور ان پر مرحلہ وار عمل درآمد کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ پیش رفت پاکستان اور قازقستان کے اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو آگے بڑھایا جائے، تحقیقی معیار کو فروغ دیا جائے اور مستقل ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے جدت کو تقویت دی جائے، تاکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور علمی روابط مزید مضبوط ہوں۔

Share This Article