شیزانگ، چین، 19 جولائی 2026ء — وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے چین کے شیزانگ خود مختار خطے کے دورے کے دوران پانچویں چائنا شیزانگ ٹرانس ہمالیہ فورم برائے بین الاقوامی تعاون سے خطاب کیا۔ فورم میں خطے بھر سے پالیسی سازوں، ماہرین اور متعلقہ فریقوں نے پائیدار ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور پہاڑی ماحولیاتی نظام کو درپیش مشترکہ چیلنجز پر تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ اجتماع خطے کے مشترکہ ثقافتی ورثے، تنوع، دوستی، سیاحت اور تہذیبوں کا اظہار ہی نہیں بلکہ انسانیت اور فطرت کے تحفظ کی مشترکہ ذمہ داری کا اعادہ بھی ہے۔ انہوں نے فورم کی میزبانی پر حکومتِ چین کا شکریہ ادا کیا اور پاک چین دیرینہ دوستی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کا قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، جو خوشحالی اور مشکل دونوں ادوار میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین ہمالیائی اور ٹرانس ہمالیائی پہاڑی نظاموں کے ذریعے گہرے جغرافیائی اور ماحولیاتی روابط رکھتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں تقریباً 13 ہزار 500 گلیشیئرز موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان گلیشیئرز کے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے خبردار کیا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ اور عالمی درجہ حرارت کا بڑھنا گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آتے ہیں اور بعد ازاں طویل خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں پاکستان میں سیلابی آفات کے باعث تقریباً 6 ہزار افراد جاں بحق ہوئے جبکہ قریباً 20 ہزار افراد زخمی یا معذور ہوئے۔ ان کے مطابق لگ بھگ 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے، جس سے اندازاً 1.8 ارب تعلیمی دن ضائع ہوئے؛ یہ اعداد و شمار موسمیاتی تبدیلی کے گہرے انسانی اور معاشی اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ گلیشیئرز محض ماحولیاتی اثاثہ نہیں بلکہ تہذیبوں اور علاقائی خوشحالی کی بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق ان نازک ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ کے لیے قدرتی وسائل پر مسابقت کے بجائے اجتماعی اقدام، سائنسی تعاون اور ذمہ دارانہ سرپرستی ضروری ہے۔
شیزانگ خود مختار خطے کے دیہات کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے ماحولیاتی تحفظ کو معاشی ترقی کے ساتھ مربوط کرنے کے چینی طریقہ کار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ ایک اہم مثال پیش کرتا ہے جہاں ترقی، خوشحالی اور ماحولیاتی حفاظت ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ معاون ہیں، اور دیگر پہاڑی علاقوں کے لیے اس سے اہم سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
علاقائی تعاون کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ مختلف ممالک گلیشیئرز اور موسمیاتی تبدیلی پر اپنی سطح پر تحقیق کر رہے ہیں، تاہم سرحد پار مربوط سائنسی تعاون میں اب بھی نمایاں خلا موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمالیائی ماحولیاتی نظام سے وابستہ ممالک کو مشترکہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علم اور حل مشترکہ طور پر پیدا کرنا ہوں گے۔
علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ڈاکٹر مصدق ملک نے تین مشترکہ اقدامات تجویز کیے۔ پہلی تجویز ورچوئل گرین یونیورسٹی کے قیام کی تھی، جس کے ذریعے خطے کی جامعات، محققین، اسکالرز اور طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے تاکہ گلیشیئرز، موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات، معیشت اور پائیدار ترقی پر مشترکہ تحقیق کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم مستقبل میں آرکٹک سمیت دیگر نازک ماحولیاتی نظاموں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی مفید علم فراہم کر سکتا ہے۔
دوسری تجویز گرین فیلڈز کے عنوان سے پیش کی گئی، جس کا مقصد ایک علاقائی پلیٹ فارم قائم کرنا ہے جہاں نوجوان کاروباری افراد کو مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے مواقع سے جوڑا جا سکے تاکہ قابلِ تجدید توانائی، بیٹری ٹیکنالوجیز، موسمیاتی طور پر محفوظ بنیادی ڈھانچے، پینے کے صاف پانی اور دیگر سبز ٹیکنالوجیز میں جدید موسمیاتی حل تیار کیے جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے گرین کلاؤڈ کے قیام کی بھی تجویز دی، جو ایک کھلا پلیٹ فارم ہوگا۔ اس کے ذریعے عوامی مالی معاونت سے ہونے والی سائنسی تحقیق اور جامعات کی جانب سے پیدا کی گئی فکری ملکیت کو اختراع کاروں، محققین اور کاروباری افراد کے لیے مفت دستیاب بنایا جا سکے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر مصدق ملک نے تمام شریک ممالک پر زور دیا کہ وہ گلیشیئرز کے تحفظ، مشترکہ ماحولیاتی نظاموں کی بقا اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی اقدام مشترکہ ذمہ داری، سائنسی تعاون اور اس عزم کا تقاضا کرتا ہے کہ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ساتھ ساتھ آگے بڑھیں۔
