راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی میں سی ٹی اسکین کے دوران استعمال ہونے والے کنٹراسٹ انجیکشن کے بعد متعدد مریضوں میں شدید طبی ردعمل سامنے آنے کے بعد مریضوں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اسپتال کی اندرونی دستاویزات کے مطابق متعدد مریضوں میں کنٹراسٹ انجیکشن لگنے کے فوراً بعد شدید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جبکہ ایک خاتون مریضہ کی ہلاکت کا بھی اندرونی مراسلے میں ذکر کیا گیا ہے، جس کے بعد معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق سی ٹی اسکین سے قبل استعمال کیے جانے والے آئیوہیکسال (Iohexol) نامی کنٹراسٹ انجیکشن لگنے کے بعد بعض مریضوں میں سانس لینے میں شدید دشواری، بلڈ پریشر میں خطرناک حد تک کمی، دل کی دھڑکن تیز ہونا، کپکپی، بخار، بے چینی، قے اور دیگر طبی پیچیدگیاں سامنے آئیں۔ ریکارڈ میں یہ بھی درج ہے کہ متاثرہ مریضوں کو فوری طور پر ایمرجنسی ادویات، آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔
دستاویزات کے مطابق سی ٹی اسکین کے لیے 100 ملی لیٹر آئیوہیکسال پر مشتمل کنٹراسٹ انجیکشن استعمال کیا گیا تھا، جس کے بعد بعض مریضوں میں مشتبہ منفی ردعمل سامنے آیا۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک مریض کو کنٹراسٹ انجیکشن کے بعد شدید کپکپی، بخار، سانس میں تکلیف، بے چینی اور دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تیزی محسوس ہوئی۔ طبی عملے نے فوری طور پر ادویات اور آکسیجن فراہم کی، جس کے بعد مریض کی حالت بہتر ہو گئی۔
ایک اور دستاویزی کیس میں بتایا گیا کہ سی ٹی اسکین کے دوران کنٹراسٹ انجیکشن لگنے کے بعد ایک مریض کو شدید سانس کی تکلیف لاحق ہوئی اور خون میں آکسیجن کی سطح نمایاں طور پر کم ہو گئی۔ فوری طبی امداد کے بعد مریض کی حالت سنبھال لی گئی۔
اسپتال انتظامیہ کو ارسال کیے گئے ایک اندرونی مراسلے میں نشاندہی کی گئی کہ سرجیکل وارڈ میں متعدد ایسے مریض سامنے آئے جو کنٹراسٹ سی ٹی اسکین سے قبل مستحکم حالت میں تھے، مگر اسکین کے بعد وارڈ میں واپس آنے پر ان کی طبی حالت اچانک خراب ہو گئی۔
دستاویزات میں ایک خاتون مریضہ کی ہلاکت کا بھی ذکر موجود ہے۔ تاہم مرحومہ کے شوہر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ انہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ انجیکشن لگنے کے بعد ان کی اہلیہ کی طبیعت بگڑ گئی تھی، لیکن انہیں اس بارے میں کوئی مصدقہ معلومات نہیں کہ موت کی وجہ انجیکشن سے پیدا ہونے والی پیچیدگی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی سرکاری انکوائری یا پوسٹ مارٹم کے حوالے سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے مکمل طبی تحقیقات ناگزیر ہیں۔
دستیاب ریکارڈ میں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خاتون کی وفات براہ راست آئیوہیکسال انجیکشن کے باعث ہوئی یا اس میں دیگر طبی عوامل بھی شامل تھے۔ اس حوالے سے ماہرین صحت اور متعلقہ حکام کو مریضہ کی مکمل طبی تاریخ، علاج، لیبارٹری رپورٹس اور کلینیکل شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ہوگا۔
ریکارڈ کے مطابق مشتبہ منفی ادویاتی ردعمل (Adverse Drug Reaction) کی رپورٹس فارماکوویجیلنس رپورٹنگ سسٹم کے تحت تیار کر کے متعلقہ حکام کو ارسال کی گئیں۔ ایک رپورٹ میں آئیوہیکسال کے استعمال کے بعد کپکپی، قے، چکر آنا اور بلڈ پریشر کم ہونے جیسی علامات درج کی گئیں، جبکہ مریض کو فوری طبی امداد فراہم کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا۔
متعدد مریضوں میں یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے ان سنگین ردعمل نے ادویات کے معیار، سپلائی، ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار اور مریضوں کی حفاظت کے نظام سے متعلق کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں استعمال ہونے والی دوا کے بیچ نمبر (Batch Number)، خریداری کے ریکارڈ، اسٹوریج کی صورتحال اور ان تمام مریضوں کا ریکارڈ بھی جانچنا ضروری ہے جنہیں یہی کنٹراسٹ انجیکشن لگایا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہونا چاہیے کہ آیا یہ انفرادی طبی پیچیدگیوں کے واقعات تھے یا دوا کے معیار، اس کی ہینڈلنگ، ذخیرہ کرنے یا نگرانی کے نظام میں کسی قسم کی خرابی موجود تھی۔
ان واقعات کے حوالے سے اسپتال انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر مرتب کیے جانے تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہو سکا۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع طبی و انتظامی تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں، ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا جائے، تاکہ تمام حقائق اور طبی شواہد کی روشنی میں منصفانہ فیصلہ کیا جا سکے۔
Copied From: CT contrast reaction alarm at Holy Family Hospital: multiple patients affected, one death reported

