خیبر پختونخوا میں پائیدار آبی زراعت کے فروغ کے لیے تکنیکی رپورٹ جاری

newsdesk
5 Min Read
ایف اے او، حکومتِ خیبر پختونخوا اور فشریز ڈویلپمنٹ بورڈ نے پشاور میں آبی زراعت کی تکنیکی رپورٹ جاری کی۔

پشاور: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او)، حکومتِ خیبر پختونخوا اور فشریز ڈویلپمنٹ بورڈ (ایف ڈی بی) نے صوبے میں پائیدار آبی زراعت، سرمایہ کاری اور کمرشلائزیشن کی رہنمائی کے لیے ایک تکنیکی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

رپورٹ کا عنوان “Mapping High-Potential Aquaculture Zones and Cluster-Based Commercialization Strategy for Khyber Pakhtunkhwa” ہے، جس میں صوبے بھر میں آبی زراعت کے زیادہ امکانات رکھنے والے علاقوں کی نشاندہی اور کلسٹر کی بنیاد پر تجارتی حکمت عملی پیش کی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں آبی زراعت کے لیے موزوں میٹھے پانی کے وسیع وسائل موجود ہیں، تاہم اب تک اس شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے جامع مقامی نقشہ سازی اور مربوط تجارتی حکمت عملی موجود نہیں تھی۔

یہ رپورٹ ایف اے او کے ٹیکنیکل کوآپریشن پروگرام (TCP) کے تحت تیار کی گئی ہے۔ اس میں ٹھنڈے پانی، خصوصاً ٹراؤٹ، نیم ٹھنڈے پانی اور گرم پانی کی آبی زراعت کے لیے زیادہ امکانات رکھنے والے زونز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کلسٹر پر مبنی کمرشلائزیشن حکمت عملی بھی شامل ہے، جس کا مقصد پائیدار پیداوار کو فروغ دینا، روزگار کے مواقع بہتر بنانا، غذائی تحفظ کو مضبوط کرنا اور فشریز سیکٹر میں سرکاری و نجی سرمایہ کاری کو تحریک دینا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کا آبی زراعت کا شعبہ اس وقت سالانہ تقریباً 5,022 میٹرک ٹن مچھلی پیدا کر رہا ہے، جس کی فارم گیٹ مالیت اندازاً 3.21 ارب روپے ہے۔ تاہم 2030 تک صوبے میں مچھلی کی طلب تقریباً ایک لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ رپورٹ میں اس فرق کو کم کرنے اور ٹراؤٹ سمیت زیادہ قدر رکھنے والی آبی زراعت کے فروغ کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے عملی روڈ میپ فراہم کیا گیا ہے۔

پشاور میں منعقدہ تقریبِ اجرا میں سینئر سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں، تکنیکی ماہرین، جامعات، نجی شعبے کے نمائندوں اور فش فارمرز نے شرکت کی۔ شرکا نے رپورٹ کے نتائج اور صوبے میں پائیدار آبی زراعت کی آئندہ سمت پر تبادلہ خیال کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکرٹری لائیو اسٹاک، فشریز اینڈ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ خیبر پختونخوا، ظریف المعانی نے کہا کہ یہ رپورٹ آبی زراعت کے شعبے میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ صوبے کے فشریز پوٹینشل کو بروئے کار لانے میں مدد دے گی اور غذائی تحفظ، روزگار اور پائیدار معاشی ترقی میں کردار ادا کرے گی۔

ایف اے او پاکستان کے آفیسر اِن چارج جیمز رابرٹ اوکوتھ نے حکومت کے ساتھ مسابقتی اور پائیدار فشریز سیکٹر کی ترقی کے لیے ایف اے او کے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ خیبر پختونخوا میں آبی زراعت کے شعبے کے لیے باخبر منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان کے مطابق حکومتِ خیبر پختونخوا اور فشریز ڈویلپمنٹ بورڈ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ایف اے او ایسی آبی زراعت کی ترقی کی حمایت کر رہا ہے جو غذائی تحفظ کو بہتر بنائے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دے۔

فشریز ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منصوبے کے ٹیم لیڈر محمد جنید وٹو نے تکنیکی رپورٹ اور کمرشلائزیشن حکمت عملی پیش کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ امکانات رکھنے والے آبی زراعت زونز کی میپنگ اور کمرشلائزیشن حکمت عملی مستقبل کی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ ماحول دوست اور تجارتی طور پر قابلِ عمل آبی زراعت کلسٹرز کی ترقی کے لیے عملی رہنمائی دیتی ہے، جو خیبر پختونخوا میں فشریز سیکٹر کی ترقی کو تیز کر سکتے ہیں۔

ایف اے او کے پراجیکٹ منیجر ڈاکٹر کنور محمد جاوید اقبال نے منصوبے کا جائزہ پیش کیا اور صوبے بھر میں کی گئی جی آئی ایس پر مبنی وسیع میپنگ، فیلڈ سرویز اور اسٹیک ہولڈر مشاورت کو اجاگر کیا۔ اسی تقریب میں منصوبے کی ویب سائٹ کا بھی اجرا کیا گیا، جس کے ذریعے متعلقہ فریق تکنیکی رپورٹ اور دیگر منصوبہ جاتی نتائج تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

رپورٹ سے توقع ہے کہ یہ مستقبل میں سرکاری و نجی سرمایہ کاری کی رہنمائی کرے گی، شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مضبوط بنائے گی اور خیبر پختونخوا میں آبی زراعت کی پائیدار توسیع میں معاون ثابت ہو گی۔

Share This Article