وفاقی حکومت کے لیے خودمختار اے آئی خدمات: ڈیٹا والٹ پاکستان اور این ٹی سی میں تین سالہ معاہدہ

newsdesk
5 Min Read
ڈیٹا والٹ پاکستان این ٹی سی کے ذریعے وفاقی حکومت کے لیے محفوظ سوورن اے آئی انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔

کراچی: ڈیٹا والٹ پاکستان نے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) کے ساتھ تین سالہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومتِ پاکستان کے لیے سوورن اے آئی سروسز فراہم کی جائیں گی۔ اس پیش رفت کو پاکستان میں محفوظ، خودمختار اور قومی کنٹرول کے تحت مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے کے تحت ڈیٹا والٹ پاکستان این ٹی سی کے لیے انٹرپرائز گریڈ NVIDIA AI انفراسٹرکچر نصب کرے گا، جس میں جدید H200، B200 اور A100 GPU پلیٹ فارمز شامل ہوں گے۔ اس سہولت کے ذریعے این ٹی سی اپنے انتہائی محفوظ، حکومت کے زیر انتظام ڈیٹا سینٹرز سے GPU-as-a-Service (GPUaaS)، Models-as-a-Service (MaaS) اور انٹرپرائز اے آئی صلاحیتیں فراہم کر سکے گا۔

یہ پلیٹ فارم محفوظ کمپیوٹ، جدید اے آئی انفراسٹرکچر اور نمایاں اے آئی ماڈلز تک رسائی فراہم کرے گا، جس سے سرکاری اداروں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی لانے میں مدد ملے گی، جبکہ اہم سرکاری ڈیٹا پاکستان کے اندر اور پاکستانی دائرہ اختیار کے تحت محفوظ رہے گا۔

اس شراکت داری کے نتیجے میں این ٹی سی کو پاکستان میں سوورن اے آئی کے لیے ایک نمایاں سرکاری پلیٹ فارم کے طور پر تقویت ملے گی، جس کے ذریعے وفاقی ادارے مصنوعی ذہانت سے محفوظ انداز میں استفادہ کر سکیں گے اور ساتھ ہی حساس ڈیٹا، کمپیوٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر مکمل کنٹرول برقرار رکھیں گے۔

دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این ٹی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر میجر جنرل (ر) علی فرحان، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، نے مقامی اے آئی انفراسٹرکچر کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپیوٹنگ پاور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اعلیٰ کارکردگی کے NVIDIA GPUs حاصل کر کے اور جدید اے آئی ماڈلز کو مقامی طور پر ہوسٹ کر کے این ٹی سی پاکستان کی ڈیجیٹل خودمختاری کے تحفظ کی جانب فیصلہ کن قدم اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود میزبان اور انتہائی محفوظ ماحول پبلک کلاؤڈز پر انحصار کے خطرات کو کم کرتا ہے، جبکہ نامزد سرکاری صارفین کو عالمی معیار کی اے آئی اِنفرنس اور ٹریننگ صلاحیتیں فراہم کرتا ہے۔

ڈیٹا والٹ پاکستان کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مہوش سلمان علی نے پاکستان کے سوورن اے آئی مستقبل کی تعمیر کے لیے کمپنی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت قومی طاقت، معاشی ترقی اور عوامی خدمت کے اگلے دور کی سمت متعین کرے گی۔ ان کے مطابق جو ممالک اپنے ڈیٹا، کمپیوٹ اور اے آئی انفراسٹرکچر پر کنٹرول رکھتے ہیں، وہی اپنا مستقبل تشکیل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی سی کے ساتھ اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان ایک محفوظ، خودمختار اور اے آئی سے آراستہ مستقبل کی جانب تاریخی قدم اٹھا رہا ہے۔

مہوش سلمان علی نے مزید کہا کہ ڈیٹا والٹ پاکستان کو سوورن اے آئی سروسز فراہم کرنے پر فخر ہے، جو وفاقی حکومتِ پاکستان کو قابل اعتماد قومی انفراسٹرکچر کے ذریعے بااختیار بنائیں گی، یہ انفراسٹرکچر پاکستان میں ہوسٹ ہو گا، پاکستانی قانون کے تحت چلایا جائے گا اور قومی کنٹرول میں کام کرے گا۔

ڈیٹا والٹ پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید ذیشان علی نے شراکت داری کے وسیع اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ صرف ٹیکنالوجی کی تنصیب تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے درکار اے آئی بنیاد قائم کرنے، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے، سرکاری اداروں کو بااختیار بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے سے متعلق ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کا صرف صارف نہیں بلکہ اس کا خالق بھی بنے۔

منصوبے پر عمل درآمد ڈیٹا والٹ پاکستان کی قیادت میں کیا جائے گا۔ کمپنی این ٹی سی کے ذریعے سرکاری اداروں کے لیے انٹرپرائز گریڈ اے آئی انفراسٹرکچر فراہم کرے گی، جسے 99.9 فیصد سروس دستیابی، جامع آپریشنل معاونت اور محفوظ اے آئی خدمات کی پشت پناہی حاصل ہو گی۔

یہ شراکت داری پاکستان کے اس قومی وژن سے بھی ہم آہنگ ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی، خودمختار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ملک کو قابل اعتماد اے آئی کے شعبے میں علاقائی رہنما کے طور پر ابھارنا ہے۔

Share This Article