بنّو بورڈ ملازمین نے مقامی تعلیمی ادارے کے سامنے پرامن مگر شدید احتجاج کیا اور قائم مقام چیئرمین امتیاز ایوب پر مالی بے ضابطگی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور امتحانی نظام میں مبینہ بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے۔ احتجاج میں بنّو بورڈ ملازمین کے رہنما سَامی اللہ درّانی کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں کے نمائندے اور طالب علم بھی موجود تھے، جنہوں نے بورڈ کی کارکردگی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔تقریب میں مقررین نے کہا کہ امتحانات کے دوران سپرنٹنڈنٹس، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس اور انویجی لیٹرز کی تقرری میں بھاری رقم کی منتقلی شامل ہے اور ایک مخصوص شخص بطور ثالث کام کر رہا ہے۔ ملازمین نے بتایا کہ بورڈ عملے کی طرف سے طلبا اور والدین سے غیر قانونی وصولیاں کی جا رہی ہیں جس سے خاص طور پر غریب طالب علموں پر ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے۔مقررین نے یہ بھی کہا کہ بنّو میں امن و امان، دہشت گردی اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی شفافیت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے، مگر سوشل میڈیا پر بورڈ ملازمین کو بدنام کیا جا رہا ہے جبکہ اصل ذمہ دار نامزد چیئرمین کے قریبی افراد ہیں۔ بنّو بورڈ ملازمین نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال نے ادارے کے وقار کو متاثر کیا ہے۔احتجاجی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ امتیاز ایوب بطور قائم مقام چیئرمین ایک ہی وقت میں کوہاٹ بورڈ کے عہدے پر بھی ذمہ دار ہیں اور گزشتہ دو ماہ میں انہوں نے بنّو بورڈ کا دورہ محض دو مرتبہ کیا، جب کہ زیادہ تر امور واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ اُنھوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ بورڈ کے تین سرکاری گاڑیوں کے باوجود چیئرمین بنّو بورڈ کی گاڑی استعمال کر رہے ہیں اور بورڈ کو ایندھن کے ہزاروں یا لاکھوں روپے کے بل بھیجنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ملازمین نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں سوالنامے پہنچانے والے عملے کو نجی گاڑیاں کرایہ پر لینی پڑتی ہیں مگر اُن کے اخراجات کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ جوابنامہ شیٹس کی خریداری میں بھی بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جب بورڈ نے شیٹ کو ۶۰ روپے فی شیٹ کہا گیا جبکہ کوہاٹ بورڈ کے لیے وہی شیٹ ۱۲۰ روپے میں خریدی گئی، جس سے لاکھوں روپے کے ممکنہ ناجائز فائدے کے شبہات پیدا ہوئے ہیں۔احتجاج میں شرکت کرنے والوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر امتیاز ایوب سے بنّو بورڈ کا اضافی چارج واپس لے اور مقامی پروفیسر کو چیئرمین تعینات کیا جائے تاکہ بورڈ کے معاملات بہتر انداز میں چل سکیں۔ ملازمین نے کھلے الفاظ میں کہا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو پہلے اسکیننگ روک دی جائے گی، پھر مارکنگ معطل کی جائے گی اور آخر کار سیکریسی شاخ بند کرنے تک احتجاج بڑھے گا، جس کے نتیجے میں پورے امتحانی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔احتجاج میں نجی تعلیمی اداروں کے رہنماؤں اور طالب علموں نے بھی خطاب کیا اور چیئرمین کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کی فوری تبدیلی کا مطالبہ دہرایا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ کسی بھی بڑے خلل کی صورت میں اس کی ذمہ داری قائم مقام چیئرمین امتیاز ایوب پر ہوگی۔
