شاہد خاقان عباسی پیٹرول آزاد کریں اور الیکٹرک فروغ

newsdesk
4 Min Read
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پیٹرول کی آزادانہ قیمتیں اختیار کی جائیں، الیکٹرک گاڑیاں فروغ پائیں اور سولر انقلاب کو تسلیم کر کے معاشی بوجھ کم کیا جائے

اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں عوام پاکستان پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں گورننس اور پالیسیوں کی ناکامی کے باعث موجودہ حالات پیدا ہوئے۔ انہوں نے زور دیا کہ پیٹرول کی قیمتوں کو مارکیٹ پر چھوڑ کر پیٹرول آزادانہ قیمتیں اختیار کر لی جائیں اور ساتھ ہی الیکٹرک وہیکلز خصوصاً الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ توانائی کے بوجھ میں کمی آئے۔عباسی نے کہا کہ دنیا میں کوئی ملک تیل کی قیمتیں خود طے نہیں کرتا بلکہ مارکیٹ پر چھوڑ دیا جاتا ہے، اس لیے پیٹرول آزادانہ قیمتیں اختیار کرنا ضروری ہیں۔ اگر قیمتیں ڈی ریگولیٹ کر دی جائیں تو عوام کو فوراً فرق نظر آنا شروع ہو جائے گا اور وزیراعظم کو راتوں رات قیمتیں کم یا زیادہ کرنے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کو خریداری قیمت سے کم فروخت نہیں کیا جا سکتا اور ۲۰۱۸ میں پارلیمنٹ میں جو فیصلہ ہوا تھا وہ درست تھا۔ ۲۰۲۲ میں بھی اس نوعیت کی کوشش کی گئی مگر مستقل پالیسی نہ ہونے کے باعث مسائل جاری رہے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو قیمتوں کا تعین ٹھیک نہیں ہوا اور پھر قیمتیں بڑھا دی گئیں، بعض اوقات قیمتیں بہت بلند ہو کر واپس بھی کم کر دی جاتی ہیں جو مستقل حل نہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی قیمتیں عالمی سطح پر کم ہو چکی ہیں مگر پاکستان میں پالیسی کی کمی کی وجہ سے یہ شعبہ فروغ نہیں پا رہا۔ یہ پالیسی ناکامی ہے کہ ہم نے نہ صرف پیٹرول بلکہ الیکٹرک گاڑیوں کو بھی مہنگا کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عام موٹر سائیکل والا تقریباً ۷ ہزار روپے ماہانہ ایندھن پر خرچ کرتا ہے جس میں سے قریب ۳ ہزار روپے ٹیکس کے طور پر حکومت کو جاتا ہے، ایسے ٹیکس عام شہری پر لگا کر پارلیمنٹیرینوں سے اس طرح کی وصولی نہیں کی جاتی۔عباسی نے یہ بھی کہا کہ آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کمائے اور وہ پیسہ عوام سے نکالا گیا، اس لیے پالیسی میں اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیٹرول کی آزادانہ قیمتیں اور الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینا دو بنیادی اقدامات ہیں جن سے معیشت پر تقریباً ۶ ارب ڈالر کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیسے بانٹنا مسئلہ کا حل نہیں بلکہ کرپشن کو بڑھاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سولر کا انقلاب حکومت کی مرضی کے بغیر عوام نے خود شروع کیا اور اب تقریباً ۲۶ ہزار میگاواٹ سولر شامل ہو چکا ہے، مگر اس پر حکومت کی واضح پالیسی نہیں تھی بلکہ بعد میں سولر پر ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا حالانکہ عوام نے اپنے پیسے سے سولر لگائے۔مائع قدرتی گیس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل موجود ہے اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ بڑا مسئلہ ہے تو درآمد روک دی جائے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ مائع قدرتی گیس لا سکتا ہے اور حکومت اس معاملے سے دست کش ہو جائے۔پریس کانفرنس میں صدر عوام پاکستان پارٹی کی جانب سے یہ پیغام دہرایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں پالیسی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں، پیٹرول آزادانہ قیمتیں لائی جائیں، الیکٹرک وہیکلز خاص طور پر الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی پالیسی بنائی جائے اور سولر انقلاب کو سہارا دے کر توانائی کے اخراجات اور ملکی بوجھ میں کمی لائی جائے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے