ڈیجیٹل تعمیل سے کاروباری دشواریاں کم ہوں گی

newsdesk
3 Min Read
ماہرین نے ریگولیٹری سادگی اور متحدہ ڈیجیٹل تعمیل نظام کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ چھوٹے و درمیانے کاروبار کا وقت اور خرچ کم ہو

ملک میں بہترکاروباری ماحول کے لیے ریگولیٹری نظام کو سادہ اور سہل بنایا جائے، ماہرین
ڈیجیٹل کمپلائنس نظام کی بدولت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولت دی جا سکتی ہے

اسلام آباد :کاروباری، قانونی ار اصلاحاتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو سادہ بنانے اور کاروباروں، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں پر بوجھ کم کرنے کے لیے ایک سادہ اور مربوط ڈیجیٹل کمپلائنس نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ماہرین نے اس امر کا اظہار فریڈم گیٹ پراسپیریٹی (FGP) اور اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز (ICSTSI) کے اشتراک عمل سے منعقدہ مشاورتی اجلاس کے موقع پر کیا۔اس اہم مشاورت میں پالیسی ماہرین، قانونی ماہرین، صنعت و تجارت کے نمائندگان اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ افراد نے #UnlockPakBusiness اقدام کے تحت عملی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔

فریڈم گیٹ پراسپیریٹی (ایف جی پی)کے سی ای او محمد انور نے کہا کہ پیچیدہ طریقہ کار اور مختلف اداروں سے جڑی ریگولیٹری شرائط سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف جی پی شواہد پر مبنی اصلاحات کے ذریعے کاروباری رکاوٹوں کو کم کرنے اور سازگار کاروباری ماحول کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے صدر اویس ستی نے تاجروں اور کاروباری افراد کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے لیے مؤثر پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ضوابط میں سادگی اور ڈیجیٹل انضمام سے کاروبار میں آسانی اور معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ مل سکتا ہے۔

پرائم انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے سی ای او ڈاکٹر علی سلمان نے کہا کہ غیر مؤثر ریگولیشنز معیشت کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ غیر ضروری کمپلائنس اخراجات میں کمی سے کاروباری نمو اور علاقائی مسابقت بہتر ہو سکتی ہے۔ریگولیٹری اصلاحات کے ماہر محسن ملک نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں کاروبار متعدد اداروں اور پیچیدہ نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، جس میں بہتری لانےکے لیے مربوط اصلاحات اور ایک سادہ ڈیجیٹل فریم ورک ناگزیر ہے۔

آئی سی ایس ٹی ایس آئی کی سسٹینیبل ڈویلپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین شیر محمد نے کاروباروں پر کمپلائنس کے بوجھ سے متعلق تکنیکی بریفنگ دیتے ہوئے ایک متحدہ ڈیجیٹل گیٹ وے کا تصور پیش کیا، جبکہ اسد تیمور، سردار ظہیر احمد اور ڈاکٹر ضیاء اللہ رنجھا نے قانونی پیچیدگیوں اور متعدد رجسٹریشن تقاضوں سے متعلق عملی مسائل اجاگر کیے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آف بلوچستان امجد خان اچکزئی نے کم ترقی یافتہ علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کو نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کم کرنے کےلئے اہم قرار دیا۔

 

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے