تزئین اختر
سینیٹر مشاہد حسین سید کی میزبانی میں اسلام آباد کلب میں منعقدہ عشائیے نے بلوچستان کے حوالے سے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پہلو سامنے رکھا۔ اس نشست کا مقصد الہجرہ اسکولز ٹرسٹ کی انتظامیہ، بانی محمد عبد الکریم ثاقب ستارۂ امتیاز، ٹرسٹ کے عہدیداروں اور سینئر میڈیا شخصیات کے درمیان رابطہ اور تبادلۂ خیال تھا۔ اس موقع پر سفیر آر آصف علی خان درانی بھی موجود تھے، جو بنیادی طور پر صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔
بلوچستان عموماً منفی خبروں کے باعث زیر بحث رہتا ہے، تاہم زیارت میں کام کرنے والا الہجرہ اسکولز ٹرسٹ اس صوبے سے امید، تعمیر اور تعلیم کا پیغام دے رہا ہے۔ ٹرسٹ کا بنیادی ہدف معیاری تعلیم کے ذریعے غربت کا خاتمہ، محروم طبقات کی بہتری اور قومی یکجہتی کا فروغ ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید، جو بلوچستان کے مسائل پر اپنی ملاقاتوں، تقاریر اور تحریروں کے ذریعے مسلسل کام کرتے رہے ہیں، حال ہی میں بلوچستان کے دورے پر گئے اور کوئٹہ میں دو روز گزارے۔ وہاں وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے فورمز میں مہمان مقرر تھے، جہاں قومی یکجہتی اور اتحاد سے متعلق امور پر گفتگو کی جاتی ہے۔ اسلام آباد واپسی پر انہوں نے الہجرہ ٹرسٹ کے کام کو اجاگر کرنے کے لیے یہ نشست منعقد کی۔
الہجرہ اسکولز ٹرسٹ زیارت میں اپنے مرکزی کیمپس میں بلوچستان کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے 380 طلبہ کو مفت تعلیم، رہائش اور خوراک فراہم کر رہا ہے۔ یہ رہائشی اسکول اور کالج قائداعظم ریزیڈنسی کے قریب واقع ہے، جہاں بانیٔ پاکستان نے اپنی علالت کے دوران آخری ایام گزارے تھے۔
ٹرسٹ کے مطابق اس کی رہنمائی قائداعظم کی تعلیمات سے لی جاتی ہے اور گزشتہ 22 برس سے بلوچستان میں تعلیم کے ذریعے “انسانیت، اسلام اور پاکستانیت” کا پیغام پھیلایا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ محمد عبد الکریم ثاقب اور ان کے بھائی کی کاوش سے شروع ہوا، جو برمنگھم، برطانیہ میں مقیم اوورسیز پاکستانی ہیں۔ پاکستان سے وابستگی کے جذبے کے تحت انہوں نے بلوچستان کو اپنی تعلیمی مہم کے لیے منتخب کیا، کیونکہ ترقی اور مواقع کے اعتبار سے اس صوبے کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
2004 میں زیارت میں چھٹی جماعت سے انٹرمیڈیٹ تک اسکول کا آغاز کیا گیا۔ ابتدا میں صوبے کے ہر ضلع سے دو ذہین بچوں کا انتخاب کیا جاتا تھا، جن کے والدین کی سالانہ آمدن ڈیڑھ لاکھ روپے سے کم ہو۔ مہنگائی کے تناظر میں اب یہ حد سالانہ ساڑھے چار لاکھ روپے سے کم رکھی گئی ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں الہجرہ ٹرسٹ نے بلوچستان میں تعلیم کے فروغ، قومی ہم آہنگی کے استحکام اور محروم طبقات کی زندگی بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ٹرسٹ کے متعدد سابق طلبہ آج بلوچستان اور ملک کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ عملی زندگی میں آنے والے طلبہ میں 150 سے زائد ڈاکٹرز شامل ہیں، جبکہ تقریباً اتنی ہی تعداد انجینئرز کی بھی ہے۔ 700 سے زائد طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف حاصل کر چکے ہیں۔
الہجرہ ٹرسٹ اب ڈیرہ غازی خان میں ایک نیا کیمپس بھی قائم کر رہا ہے، جہاں دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب کے کم وسیلہ خاندانوں کے ذہین بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ نئے کیمپس میں کلاسز شروع ہو چکی ہیں اور طلبہ کے داخلے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ مقررہ ہدف 60 طلبہ کا ہے، جن میں سے 35 سے زائد طلبہ داخل ہو چکے ہیں، جبکہ سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے باقی طلبہ کے انتخاب کی کوششیں جاری ہیں۔
الہجرہ ٹرسٹ کا تعلیمی سفر برمنگھم سے شروع ہوا تھا، جہاں تقریباً پچیس برس قبل مسلم کمیونٹیز، خصوصاً پاکستانی نژاد خاندانوں کے 800 طلبہ کے ساتھ ایک اسکول قائم کیا گیا۔ عبد الکریم ثاقب کے مطابق اس اسکول کا کوئی طالب علم کسی جرم میں ملوث نہیں ہوا اور کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، جبکہ وہاں جیلوں میں مختلف جرائم میں ملوث مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
برمنگھم کے اس تعلیمی تجربے میں مشرق اور مغرب کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا گیا۔ طلبہ کو اسلامی اور مشرقی روایات سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کے قوانین اور روایات کا احترام کرنے کی ترغیب دی گئی جہاں وہ رہ رہے تھے۔
الہجرہ اسکولز ٹرسٹ کا منصوبہ عزم، شکرگزاری اور خدمت کے جذبے کا مظہر ہے۔ یہ کوشش ان طلبہ اور ان کی برادریوں کی زندگیوں میں تبدیلی لا سکتی ہے اور بلوچستان سمیت محروم علاقوں کے لیے امید کی ایک روشن مثال بن رہی ہے۔
