کامالیہ نرسنگ کالج کی انسپیکشن رپورٹ میں مبینہ ٹیمپرنگ، ایف آئی اے کا 6 افراد کے خلاف کیس

newsdesk
6 Min Read
ایف آئی اے نے کامالیہ کالج آف نرسنگ کی انسپیکشن رپورٹ میں مبینہ ٹیمپرنگ پر مقدمہ درج کیا ہے۔

اسلام آباد: (علینہ جنت) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کامالیہ کالج آف نرسنگ کی انسپیکشن رپورٹ میں مبینہ ردوبدل کے معاملے پر 6 افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے۔ الزام ہے کہ کالج کو ایکریڈیٹیشن کے معیار پر پورا اترتا ظاہر کرنے کے لیے اس کے اسکورز میں اضافہ کیا گیا۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد میں درج ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ 4 ستمبر 2026 کو درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ڈگری پروگرام کا اصل اسکور مبینہ طور پر 36 سے تبدیل کر کے 88.8 کیا گیا، جبکہ ڈپلومہ پروگرام کا اسکور 30 سے بڑھا کر 80 ظاہر کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق یہ مبینہ تبدیلیاں انسپیکشن رپورٹ کے ایجنڈا آئٹم 89 میں ردوبدل کے ذریعے کی گئیں۔ ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد کالج کو مقررہ ایکریڈیٹیشن تقاضوں کے مطابق ظاہر کرنا تھا۔

مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109، 409، 420، 468 اور 471 کے ساتھ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ کارروائی ایف آئی اے انکوائری نمبر 320 آف 2024 کے بعد عمل میں آئی۔ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل نے نرسنگ اداروں کے معائنے اور ایکریڈیٹیشن کے لیے ایک ایکریڈیٹیشن کمیٹی قائم کی تھی۔

کمیٹی کو 4 اور 5 مارچ 2024 کو پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہر کامالیہ میں واقع کامالیہ کالج آف نرسنگ کا معائنہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

ایف آئی آر میں شبانہ کوثر، لیاقت علی، مسلم شاہ، فرزانہ اقبال اور عبد المنان کو انسپیکشن کمیٹی کے ارکان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جبکہ مخدوم نذر حسین کو کالج کے مالک کے طور پر ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے نے الزام عائد کیا ہے کہ نامزد ملزمان نے مبینہ طور پر ایک دوسرے اور ادارے کے مالک کی ملی بھگت سے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور انسپیکشن رپورٹ کی تیاری اور اس کے ریکارڈ سے متعلق معاملات میں ردوبدل کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مبینہ ٹیمپرنگ کا مقصد کالج کو غیر قانونی فائدہ پہنچانا تھا تاکہ اس کی کارکردگی کو ایکریڈیٹیشن کے مطلوبہ معیار کے مطابق ظاہر کیا جا سکے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ڈگری پروگرام کے 36 نمبرز کو مبینہ طور پر 88.8 میں تبدیل کیا گیا، جبکہ ڈپلومہ پروگرام کے 30 نمبرز کو 80 کیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق یہ تبدیلیاں انسپیکشن رپورٹ کے ایجنڈا آئٹم 89 میں مبینہ ہیرا پھیری کے ذریعے کی گئیں۔

ایف آئی آر میں اس عمل کو جعلسازی، من گھڑت ریکارڈ سازی اور انسپیکشن رپورٹ میں ٹیمپرنگ قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مبینہ ردوبدل کا مقصد کالج کو مقررہ معیار کے تحت اہل ظاہر کرنا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق مبینہ ٹیمپرنگ سے متعلق شواہد ایف آئی اے ٹیکنیکل لیبارٹری کی فرانزک رپورٹ نمبر 143 آف 2024 کے ذریعے سامنے آئے۔ اس فرانزک رپورٹ کو مقدمہ درج کرنے کے لیے معاون مواد کے طور پر ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں نامزد 6 افراد میں نرسنگ انسٹرکٹر شبانہ کوثر، کلینیکل انسٹرکٹر لیاقت علی، ایسوسی ایٹ پروفیسر مسلم شاہ، سی او این اے آئی این سی لاہور کی پرنسپل فرزانہ اقبال، نرسنگ کنسلٹنٹ عبد المنان اور کامالیہ کالج آف نرسنگ کے مالک مخدوم نذر حسین شامل ہیں۔

ایف آئی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ تفتیش کے دوران کفایت اللہ کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔ ادارے کے مطابق اگر کسی اور شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو اس کے کردار کا تعین بھی تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔

ایف آئی آر اسلام آباد کی یاسمین عزا کی شکایت پر ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد میں درج کی گئی۔ ریکارڈ کے مطابق مقدمے کا اندراج 4 ستمبر 2026 کو صبح 11 بجے ہوا، جبکہ اسی روز صبح 11 بج کر 45 منٹ پر اسے تھانے سے روانہ کیا گیا۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد معاملہ تفتیش کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ایف آئی اے اب انسپیکشن ریکارڈ، فرانزک مواد اور ایف آئی آر میں نامزد افراد کے کردار کا جائزہ لے گی۔

واضح رہے کہ ایف آئی آر کا اندراج بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں، اور تمام الزامات کو قانونی عمل کے دوران عدالت میں ثابت کیا جانا ضروری ہے۔

Share This Article