اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی، یو این ایف پی اے، نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی میں نوجوانوں کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 72 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملک کی ایک تہائی آبادی 10 سے 24 سال کی عمر کے درمیان ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 76 فیصد نوجوان مستقبل کے بارے میں امید رکھتے ہیں، تاہم 53 فیصد پاکستانی نوجوان جنگ، سلامتی، معاشی مشکلات، عدم مساوات، صحت اور ماحول سے متعلق خطرات کے باعث تشویش کا شکار ہیں۔
یو این ایف پی اے کے مطابق دیہی علاقوں کے نوجوان، خصوصاً لڑکیاں، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولیات کی کمی کے باعث اپنے خواب پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اس سال عالمی یومِ آبادی کا موضوع ’’نوجوانوں کی امیدوں اور خواہشات کی تکمیل — آج اور مستقبل کے لیے‘‘ ہے۔ اسی مناسبت سے یو این ایف پی اے نے ’’ڈیموگرافک فیوچرز سروے‘‘ کے نام سے نئی عالمی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کا عنوان ’’زندگیاں، انتخاب اور مستقبل: نوجوان کیا چاہتے ہیں اور تعلقات اور والدینیت کے بارے میں ان کے فیصلوں کو کیا متاثر کرتا ہے‘‘ ہے۔
یہ رپورٹ 73 ممالک میں 18 سے 39 سال کی عمر کے ایک لاکھ سے زائد ایسے افراد کی آرا پر مبنی ہے جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ یو این ایف پی اے کے مطابق یہ نوجوانوں کے تولیدی انتخاب، شادی اور بچوں سے متعلق فیصلوں کو سمجھنے کے لیے اب تک کے بڑے شواہد میں سے ایک ہے۔
رپورٹ میں بچوں کی خواہش اور حقیقت کے درمیان فرق بھی سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے اوسطاً 1.8 بچے ہیں جبکہ وہ 2.5 بچے چاہتی ہیں۔ اسی طرح مردوں کے اوسطاً 2.5 بچے ہیں جبکہ وہ 3.4 بچے چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مردوں نے خواتین کے مقابلے میں زیادہ بچوں کی خواہش ظاہر کی۔ پاکستان میں 35 سے 39 سال کی عمر کے 30 فیصد افراد کے کوئی بچے نہیں، اور ان میں سے 65 فیصد بچے چاہتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو این ایف پی اے کے نمائندہ ڈاکٹر لوائے شبانے نے کہا کہ پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کے لیے تعلیم، صحت، غذائیت اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی منڈیوں تک رسائی اور مہارتوں میں سرمایہ کاری سے آمدنی اور بچت میں اضافہ ہوگا، جس سے معیارِ زندگی اور مجموعی خوشحالی بہتر ہوگی۔
ڈاکٹر لوائے شبانے کے مطابق انسانی وسائل کی ترقی اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیم کو ترقی، خوشحالی اور مضبوط مستقبل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری ہی پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی یومِ آبادی یہ یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل صرف آبادی کے رجحانات سے نہیں بلکہ آج کیے گئے فیصلوں کے معیار سے طے ہوگا۔ یو این ایف پی اے نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایسے مستقبل کے لیے کام جاری رکھے گا جہاں ہر حمل خواہش کے مطابق ہو، ہر پیدائش محفوظ ہو، اور ہر نوجوان اپنی صلاحیت استعمال کر سکے۔
