سمالی ساحل پر جہاز اغوا اور پاکستانی عملے کی صورتحال

newsdesk
4 Min Read
دفترِ خارجہ نے سومی حکومت سے رابطہ اور اغوا شدہ جہاز کے گیارہ پاکستانی عملے کی بازیابی کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پاکستان سومی حکومت سے رابطے میں ہے اور اغوا شدہ تیل بردار جہاز میں قید پاکستانی عملے کے تحفظ اور بازیابی کے اقدامات جاری ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ معاملات کی پیش رفت کے حوالے سے متعلق فریقین سے بات چیت ہو رہی ہے اور ضروری سفارتی رابطے قائم کیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق مسلح قزاقوں نے پچھلے ہفتے سومی ساحل کے قریب تیل بردار جہاز کو اغوا کیا جس کے نتیجے میں گیارہ پاکستانی عملے کے افراد اور جہاز کے کپتان جو انڈونیشیائی شہری ہیں قید ہو گئے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ قزاق جہاز کے مالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور صورتِ حال کی نزاکت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مذاکراتی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں سمالی اغوا کے واقعات کی واپسی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ماہرین اور حکام نے ذکر کیا کہ سومی ساحل کے آس پاس اغوا کی وارداتیں سب سے زیادہ ۲۰۱۱ میں تھیں جب حملہ آور سمندر میں چند ہزار کلومیٹر تک کارروائیاں کر چکے تھے۔ موجودہ واقعہ اسی طرز کی وارداتوں کے دوبارہ ابھر آنے کے خدشات کو جنم دے رہا ہے اور علاقے میں کشیدگی اور سمندری راستوں میں خلل کی صورتِ حال مزید تشویش کا باعث بن رہی ہے، خاص طور پر خلیجِ ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی تیل اور تجارت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے خلیجِ ہرمز کو عالمی سمندری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ پاکستان صورتحال کی جلد معمول کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں نئے اور پرانے تجاویز زیرِ غور ہیں اور بین الاقوامی فریقین خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے تاکہ خطے میں تحمل اور امن بحال ہو۔اسی دوران کمبوڈیا میں ایک مبینہ فراڈ کمپاؤنڈ کی چھاپے کے بعد پاکستانی شہریوں کی گرفتاریوں کی تعداد بڑھ کر ۸۴ ہو گئی ہے جن میں سے ۷۶ مرد اور ۸ خواتین شامل ہیں۔ دفترِ خارجہ نے کہا کہ تمام پاکستانی شہری محفوظ ہیں اور کمبوڈیائی حکام نے قونصلر رسائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ڈپٹی ہیڈ آف مشن بلال محسن نے حراست میں موجود پاکستانیوں سے ملاقات کی اور حکام کی جانب سے خوراک اور طبی سہولتیں فراہم کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق کئی پاکستانی جعلی نوکری کے جھانسے میں کمبوڈیا گئے تھے، بعض نے سیاحتی ویزا پر غیر قانونی طور پر کام کیا جبکہ بعض نے قیام کی مدت بڑھا لی تھی۔ کمبوڈیائی حکام جرمانے معاف کرنے پر غور کر رہے ہیں اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متعدد افراد کی وطن واپسی متوقع ہے؛ دفترِ خارجہ نے شہریوں کو بیرونِ ملک نوکریوں کے جھانسوں سے محتاط رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے