سوشل میڈیا: نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ذریعہ یا ان کے مستقبل کے لیے چیلنج؟

newsdesk
6 Min Read
سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے موقع بھی ہے اور چیلنج بھی

سوشل میڈیا: نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ذریعہ یا ان کے مستقبل کے لیے چیلنج؟

دہشتگردی کے خلاف - دہشتگردی کے خلاف فوری کارروائیوں کے اسباق

تحریر: تصدق گیلانی

ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں اسمارٹ فون صرف ایک مواصلاتی آلہ نہیں بلکہ خیالات، کیریئر، تعلقات اور حتیٰ کہ قومی بیانیے تشکیل دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ آج کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا محض تفریح کا پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ یہ ایک تعلیمی ادارہ، کاروباری منڈی، پیشہ ورانہ روابط کا مرکز اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کس حد تک دانشمندی سے استعمال کر رہے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کے سیکھنے، رابطے قائم کرنے اور کیریئر بنانے کے انداز کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ آج لاکھوں طلبہ دنیا کے بہترین تعلیمی مواد تک آن لائن رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ کاروباری افراد بھاری سرمایہ کاری کے بغیر اپنے کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں، فری لانسرز عالمی سطح پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ تخلیق کار اپنی صلاحیتوں کو دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچا رہے ہیں۔ اس اعتبار سے سوشل میڈیا نے مواقع تک رسائی کو زیادہ مساوی اور آسان بنا دیا ہے۔

تاہم ہر تکنیکی انقلاب اپنے ساتھ نئے چیلنجز بھی لاتا ہے۔ یہی پلیٹ فارمز جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، بعض اوقات ہمیں تنہائی کا شکار بھی بنا دیتے ہیں۔ مسلسل اسکرولنگ نے بامقصد مطالعے اور سیکھنے کی جگہ لے لی ہے۔ آن لائن مقبولیت اور پسندیدگی حاصل کرنے کی دوڑ نے بہت سے نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور احساسِ کمتری کو بڑھا دیا ہے۔ سائبر بُلیئنگ، غلط معلومات، جعلی خبروں کا پھیلاؤ اور ڈیجیٹل لت آج کے دور کے نمایاں سماجی مسائل بن چکے ہیں۔

شاید سب سے بڑا خطرہ خود ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ڈیجیٹل شعور کی کمی ہے۔ معلومات ہر جگہ دستیاب ہیں، لیکن تنقیدی سوچ پہلے سے کہیں زیادہ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ ہر وائرل ہونے والی پوسٹ درست نہیں ہوتی اور مقبولیت کو کبھی بھی ساکھ یا صداقت کا معیار نہیں سمجھنا چاہیے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کریں، آزادانہ سوچ اپنائیں اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی رائے قائم کریں، کیونکہ ان کا ایک کلک یا ایک پوسٹ ہزاروں لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

مستقبل ان لوگوں کا ہے جو صرف مواد استعمال نہیں کرتے بلکہ اسے تخلیق بھی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو اپنی صلاحیتوں میں اضافہ، علم کی ترویج، پیشہ ورانہ روابط قائم کرنے، جدت کو فروغ دینے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ آن لائن گزارا جانے والا ہر گھنٹہ ہمیں زیادہ باعلم، زیادہ باصلاحیت اور معاشرے کے لیے زیادہ مفید بنانا چاہیے۔

اس ضمن میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ صرف ٹیکنالوجی پر پابندیاں لگانا مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خاندان اور تعلیمی ادارے نوجوانوں میں ڈیجیٹل خواندگی، اخلاقی آن لائن رویوں، جذباتی استحکام اور متوازن طرزِ زندگی کو فروغ دیں۔ نوجوانوں کو صرف نگرانی نہیں بلکہ مثبت رہنمائی درکار ہے تاکہ وہ اعتماد، ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیجیٹل تبدیلی عالمی معیشت کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں مسلسل سیکھنے، خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے اور تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی بدلتی رہے گی، لیکن نظم و ضبط، دیانت داری، ہمدردی اور دانشمندی جیسی اقدار ہمیشہ کامیابی کی اصل بنیاد رہیں گی۔

لہٰذا ہماری ذمہ داری واضح ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف ٹیکنالوجی تک رسائی ہی نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ استعمال کا شعور بھی دینا ہوگا۔ ہر کلک، ہر پوسٹ اور ہر ڈیجیٹل سرگرمی نہ صرف ایک فرد کے مستقبل بلکہ پورے معاشرے کی سمت متعین کرتی ہے۔

سوشل میڈیا نہ تو ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے اور نہ ہی سب سے بڑا خطرہ۔ یہ ایک آئینہ ہے جو ہمارے کردار کی عکاسی کرتا ہے، اور ایک ایسا ذریعہ ہے جو اس بات کو بڑھا دیتا ہے کہ ہم کیا بننا چاہتے ہیں۔ اگر ہم شور پر علم، مقبولیت پر مقصد، اور دکھاوے پر حقیقی اقدار کو ترجیح دیں تو ڈیجیٹل دور انسانی تاریخ کے بہترین مواقع میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔

مستقبل ان لوگوں کا نہیں ہوگا جو سب سے زیادہ وقت آن لائن گزارتے ہیں، بلکہ ان کا ہوگا جو ٹیکنالوجی کو سیکھنے، جدت پیدا کرنے، دوسروں کو متاثر کرنے اور قیادت کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے