ایندھن قیمتوں میں اضافے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بھاری منافع کا شبہ

5 Min Read
سینیٹ کمیٹی نے پٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تیل کمپنیوں کے ممکنہ اضافی منافع پر سوال اٹھائے، آڈیٹ اور اسٹاک رپورٹس کا مطالبہ کیا۔

ایندھن قیمتوں میں اضافے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بھاری منافع کا شبہ،

ندیم تنولی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں گزشتہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید سوالات اٹھائے گئے، جبکہ سینیٹرز نے شبہ ظاہر کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے موجودہ ذخائر کے باوجود قیمتیں بڑھنے سے بھاری مالی فائدہ حاصل کیا۔

تنازع اس وقت سامنے آیا جب پیٹرولیم ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکا ایران کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مالی گنجائش اور لیکویڈیٹی پیدا کرنے کی خاطر پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

کمیٹی چیئرمین سینیٹر عمر فاروق اور دیگر ارکان نے سوال اٹھایا کہ جب ملک میں پہلے سے وافر مقدار میں پیٹرولیم ذخائر موجود تھے تو عوام پر اضافی بوجھ کیوں ڈالا گیا۔ سینیٹرز نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے وقت سے بظاہر ان کمپنیوں کو فائدہ پہنچا جن کے پاس پرانے نرخوں پر خریدے گئے ذخائر موجود تھے۔

کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ممکنہ منافع کا اندازہ لگانے کے لیے جامع آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام اسٹاک رپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ حکام نے بتایا کہ اوگرا، ایف آئی اے، آئی بی اور دیگر اداروں پر مشتمل مشترکہ نگرانی نظام پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے جو ہر پندرہ روز بعد پیٹرولیم ذخائر کا معائنہ کرتا ہے۔

پیٹرولیم وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ امریکا ایران تنازع میں مستقل جنگ بندی نہ ہونے، درآمدی مشکلات اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے باعث حکومت کو اہم شعبوں کو ترجیح دینا پڑی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈی اے پی کھاد کی درآمد میں مشکلات کے باعث یوریا بحران سے بچنے کے لیے گیس سپلائی کھاد کارخانوں کی طرف منتقل کی گئی۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گیس سپلائی کے دباؤ میں کمی کے لیے ایل این جی کا ایک کارگو منگل کو کراچی پورٹ پہنچنے کی توقع ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹرز نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی گیس لوڈشیڈنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گیس کی غیر مساوی تقسیم پر تنقید کی۔ حکام نے کہا کہ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے کھانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو ترجیح دی، تاہم ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ کئی علاقوں میں اب بھی طویل بندش جاری ہے۔

کمیٹی نے ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سرکاری نرخوں اور مارکیٹ قیمتوں کے درمیان فرق کا بھی سخت نوٹس لیا۔ اوگرا اور متعلقہ اداروں کو منافع خوری کے خلاف کارروائی کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے رہائشیوں کو سپریم کورٹ اور وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود گیس کنکشن نہ ملنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکام نے فنڈز کی کمی کو تاخیر کی وجہ قرار دیا جس پر کمیٹی ارکان نے سخت تنقید کی۔

کمیٹی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پنجاب میں آر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو قدرتی گیس کیوں فراہم کی جا رہی ہے جبکہ دیگر صوبوں خصوصاً جامشورو پاور پلانٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سینیٹرز نے گیس تقسیم کی مکمل ترجیحی پالیسی طلب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ منصفانہ تقسیم یقینی نہ بنائی گئی تو بعض آر ایل این جی پلانٹس کی سپلائی محدود کی جا سکتی ہے۔

کمیٹی نے خیبر پختونخوا میں سی این جی بندش کا بھی جائزہ لیا۔ ارکان نے کہا کہ اس فیصلے سے کم آمدن والے شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں جو آمدورفت کے لیے سی این جی پر انحصار کرتے ہیں۔ حکام نے اس بندش کی وجہ علاقائی کشیدگی اور شپنگ مسائل کے باعث آر ایل این جی کی قلت کو قرار دیا۔

Copied From: Senate panel suspects massive OMC windfall after fuel price hike

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے