اسلام آباد: کینٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے نجی طور پر نصب واٹر بورز پر 7 ہزار روپے این او سی فیس اور ماہانہ چارجز عائد کرنے کے فیصلے کو مکینوں نے سختی سے مسترد کردیا ہے۔ شہریوں نے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مقامی آبادی پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑے گا۔
مکینوں کے مطابق یہ واٹر بورز انہوں نے اپنی بنیادی ضرورت، یعنی پانی کے حصول کے لیے اپنے ذاتی خرچ پر لگوائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کینٹونمنٹ بورڈ نے ان بورز کی تنصیب، تعمیر، مرمت، دیکھ بھال یا چلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، اس لیے ان پر فیس اور ماہانہ بلنگ عائد کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اس معاملے پر منعقدہ مشاورتی اجلاس میں بڑی تعداد میں رہائشیوں نے شرکت کی اور کینٹونمنٹ بورڈ کے فیصلے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ اجلاس کے شرکا نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ نجی واٹر بورز پر عائد 7 ہزار روپے این او سی فیس اور ماہانہ چارجز فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
رہائشیوں نے کہا کہ پانی کے یہ ذرائع مکمل طور پر ان کے اپنے مالی وسائل سے قائم کیے گئے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی وہ خود برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں مزید چارجز عائد کرنا ان گھرانوں کے لیے اضافی مالی دباؤ کا باعث بنے گا جو پہلے ہی بورز کی تنصیب اور مرمت کے اخراجات ادا کر رہے ہیں۔
شرکا کا مؤقف تھا کہ جب کسی سہولت کو شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قائم اور برقرار رکھا ہے تو اس پر نئی فیسیں عائد کرنا درست نہیں۔ انہوں نے این او سی فیس اور ماہانہ بلنگ کو بلاجواز، غیر منصفانہ اور ناقابل قبول قرار دیا۔
اجلاس میں منتخب عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی پر بھی ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ مکینوں نے کہا کہ کسی کونسلر، رکن قومی اسمبلی یا رکن صوبائی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، حالانکہ یہ معاملہ براہ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی اور گھریلو اخراجات سے متعلق ہے۔
شرکا نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو عوام کے لیے دستیاب رہنا چاہیے اور ایسے مواقع پر شہریوں کے تحفظات سننے کے لیے موجود ہونا چاہیے، جب کسی فیصلے سے مقامی آبادی کی بنیادی ضروریات اور اخراجات متاثر ہو رہے ہوں۔
مکینوں نے کینٹونمنٹ بورڈ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ ان کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے اور متاثرہ کمیونٹی کے ساتھ براہ راست بات چیت کرکے مسئلے کا حل نکالا جائے۔
انہوں نے منتخب نمائندوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور تنازع کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں، بجائے اس کے کہ شہری فیصلے کے مالی اثرات کا اکیلے سامنا کرتے رہیں۔
رہائشیوں نے واضح کیا کہ نجی طور پر لگائے گئے واٹر بورز پر 7 ہزار روپے این او سی فیس اور تمام ماہانہ چارجز فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس معاملے کو تاخیر کے بغیر حل کیا جانا چاہیے۔
مکینوں نے مزید کہا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور چارجز واپس نہیں لیے جاتے، وہ پرامن اور قانونی طریقوں سے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
