راولپنڈی کے دیہی تھانوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش، سی پی او نوٹس لیں: نعیم عصمت کھوکھر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
راولپنڈی کے مضافاتی اور دیہی علاقوں، بالخصوص تھانہ چونترہ، کے حوالے سے شہری، سماجی اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض دیہی تھانوں میں عوامی مسائل کے حل کے بجائے مبینہ طور پر ایسے رویے دیکھنے میں آ رہے ہیں جن سے کاروباری اور تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار نعیم عصمت کھوکھر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ و عہدیدار بلڈرز اینڈ ڈیولپرز فورم راولپنڈی اسلام اباد نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دیہی علاقوں کے تھانوں کی کارکردگی کا خصوصی جائزہ لیں اور ان علاقوں میں اچانک و باقاعدہ دوروں کا سلسلہ شروع کریں تاکہ عوامی شکایات اور تحفظات کا براہِ راست ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ عرصے میں مریم نواز صاھبہ کے اقدامات، پولیس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور متعدد دیانتدار افسران کی کوششوں سے محکمہ پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں نہ صرف پولیس فورس کا مورال بلند ہوا بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم دیہی علاقوں میں اب بھی مکمل بہتری دکھائی نہیں دیتی اور کئی مسائل بدستور برقرار ہیں۔
نعیم اسمت کھوکھر نے مزید کہا کہ تھانہ چونترہ کے SHO بظاہر ایک شریف النفس اور نرم مزاج افسر سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کے ماتحت بعض اہلکاروں کے حوالے سے یہ شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ مبینہ طور پر بلڈرز اور ڈیولپرز کو مختلف حیلوں بہانوں سے ہراساں کر کے پلاٹس اور رقوم کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے مبینہ اقدامات نہ صرف کاروباری ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ محکمہ پولیس کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ راولپنڈی پولیس کی اعلیٰ قیادت دیہی علاقوں میں شفاف احتسابی نظام کو مزید مؤثر بنائے، عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ایسے تمام عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جو محکمہ پولیس کی نیک نامی کو متاثر کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
