ریڈیو پاکستان کا خالی املاک سے سالانہ ایک ارب روپے سے زائد آمدن کا ہدف

4 Min Read
ریڈیو پاکستان اپنی خالی عمارتوں اور زمین کو آمدن کے حصول کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

اسلام آباد: ریڈیو پاکستان نے رواں مالی سال کے اختتام تک اپنی خالی املاک سے سالانہ ایک ارب روپے سے زائد کرایہ آمدن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارہ اپنی غیر استعمال شدہ عمارتوں اور زمین کو آمدن کے حصول کے لیے بروئے کار لا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات، جس کا اجلاس سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت ہوا، کو بتایا گیا کہ ریڈیو پاکستان خالی جگہیں زیادہ تر نجی کمپنیوں کے بجائے سرکاری محکموں کو کرایے پر دے رہا ہے۔

اسلام آباد میں ایچ نائن اور آئی فورٹین میں موجود خالی جگہیں کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کو کرایے پر دی گئی ہیں، جن سے سالانہ 270 ملین روپے حاصل ہو رہے ہیں۔ ملتان میں ریڈیو پاکستان نے اکیڈمی آف لیٹرز اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو جگہ کرایے پر دی ہے۔

پشاور میں وزارت اطلاعات کے علاقائی دفاتر کو ریڈیو پاکستان کی نئی تعمیر شدہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے وزارت نجی مالکان کو کرایہ ادا کرنے کے بجائے سرکاری ملکیت کی عمارت استعمال کر سکے گی۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور بہتری کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ اہم آلات کو محفوظ رکھنے اور خالی عمارتوں کو ممکنہ غیر قانونی قبضے سے بچانے کے لیے ریڈیو میوزیم قائم کیا گیا ہے۔

لاہور سے ایک تاریخی ٹیوب ٹرانسمیٹر اس میوزیم میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کیماڑی کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر بلڈر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں تاکہ تاریخی عمارت کو اس کے اصل ڈیزائن کے مطابق بحال کیا جا سکے۔

ریڈیو پاکستان نشریات اور ڈیجیٹل میڈیا میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے لیے براڈکاسٹ ٹریننگ اکیڈمی بھی قائم کر رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ریڈیو لاہور میں تقریباً 70 یونیورسٹی طلبہ کو 15 کورسز میں تربیت دی جا چکی ہے، جن میں وائس موڈیولیشن، تلفظ اور گفتگو کی مہارتیں شامل ہیں۔

اجلاس میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن بورڈ میں ارکان پارلیمنٹ کی نمائندگی سے متعلق بل کی منظوری بھی دی گئی۔ مجوزہ قانون کے تحت ایک سینیٹر اور قومی اسمبلی کا ایک رکن بورڈ میں شامل ہو سکے گا۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے اس تجویز کی مخالفت کی، کیونکہ اس کے مطابق اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023 کی دفعہ 11 حاضر سروس ارکان پارلیمنٹ کو ایسے اداروں میں آزاد ڈائریکٹر مقرر کرنے پر پابندی عائد کرتی ہے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ اس قانونی مسئلے کے حل کے لیے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز قانون میں تبدیلی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

کمیٹی نے کوئٹہ میں سریاب روڈ پر ریڈیو پاکستان کی 69.2 ایکڑ زمین کے معاملے پر بھی غور کیا، تاہم یہ معاملہ ادارے کی املاک کے وسیع تر جائزے کا ثانوی حصہ رہا۔

کوئٹہ کی یہ زمین ریڈیو پاکستان نے 1956 میں خریدی تھی۔ بلوچستان حکومت نے اس زمین کو عوامی استعمال کے لیے حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ ریڈیو پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر زمین منتقل کی جاتی ہے تو اسے مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی یا مساوی مالیت کی زمین دی جائے۔

کمیٹی کی جانب سے کراچی میں ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کا دورہ متوقع ہے تاکہ ان کی حالت کا جائزہ لیا جا سکے اور ادارے کی املاک کے بہتر استعمال کے منصوبوں پر غور کیا جا سکے۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیوں، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔