پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے ریٹائرڈ ملازمین نے گزشتہ دو ماہ سے پنشن کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق پی ایس بی کے ریٹائرڈ ملازمین کو 2006 سے باقاعدگی کے ساتھ پنشن ادا کی جا رہی تھی اور اس نظام پر آج تک کسی مجاز فورم کی جانب سے کوئی اعتراض یا منفی مشاہدہ سامنے نہیں آیا۔ ان فورمز میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان، کمرشل آڈیٹرز، وزارت خزانہ اور وزارت بین الصوبائی رابطہ شامل ہیں۔ ریٹائرڈ ملازمین کے مطابق تقریباً دو دہائیوں سے جاری یہ عمل پنشن نظام کی قانونی حیثیت اور شفافیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے 34ویں بورڈ اجلاس میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم (CPS) یکم جولائی 2025 سے نافذ کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے تحت حاضر سروس ملازمین کی بنیادی تنخواہ سے 10 فیصد ماہانہ کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ موجودہ پنشنرز بھی مقررہ شرح کے مطابق حصہ دے رہے ہیں، جو 72 سال کی عمر کو پہنچنے پر 20 فیصد تک بڑھایا جانا ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم صرف ان ملازمین پر لاگو ہونی ہے جو یکم جولائی 2024 یا اس کے بعد مستقل بنیادوں پر بھرتی کیے گئے ہوں۔ تاہم پی ایس بی کے موجودہ پنشنرز کے مطابق اس پالیسی کے برعکس کٹوتیاں ان پر بھی لاگو کر دی گئی ہیں، جس سے اسکیم کو مؤثر طور پر سابقہ تاریخوں سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی ان افراد کے لیے نہیں تھی جو اس کے نفاذ سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے تھے۔
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب وزارت بین الصوبائی رابطہ نے تیسری اور چوتھی سہ ماہی کے گرانٹس کو پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کو فنڈز جاری کرنے کے لیے ری اپروپری ایشن کر دیا۔ اس کے نتیجے میں پی ایس بی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور پنشنرز کو گزشتہ دو ماہ سے پنشن ادا نہیں کی جا سکی۔
ریٹائرڈ ملازمین کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دور میں پنشن نہ ملنے سے انہیں سخت مالی پریشانی کا سامنا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد اپنی بنیادی ضروریات، علاج معالجے اور گھریلو اخراجات کے لیے ماہانہ پنشن پر انحصار کرتی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کو جاری کی گئی رقم مبینہ طور پر پاکستان اسپورٹس بورڈ کے بورڈ کی منظوری کے لیے پیش نہیں کی گئی۔ اسی دوران پنشنرز کے فوری مسائل حل کرنے کے بجائے ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی نے بورڈ کے فیصلے کے بغیر پنشن کمیٹی تشکیل دے دی۔ بورڈ کے متعلقہ فیصلے کے مطابق پنشن فنڈ کے لیے تجویز تیار کر کے اسے غور و خوض کے لیے بورڈ کے سامنے رکھا جانا تھا۔
پنشنرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ مالی بحران کے حل کے بجائے توجہ متبادل انتظامات کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کے جائز تحفظات بدستور حل طلب ہیں۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں، گزشتہ دو ماہ کی زیر التوا پنشن فوری جاری کرائیں، مستقبل میں پنشن کی باقاعدہ، بلا تعطل اور بروقت ادائیگی یقینی بنائیں، اور ان ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق اور وقار کا تحفظ کریں جنہوں نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ذریعے ملک کی خدمت میں کئی دہائیاں گزاریں۔
