اسلام آباد میں 13 مارچ کو پاپولیشن کونسل نے انفارمیشن سروس اکیڈمی اور یو این ایف پی اے کے اشتراک سے منعقدہ میڈیا کولیشن اجلاس میں کہا گیا کہ قومی ایکشن پلان کی تکمیل کے لیے صوبائی سطح پر فوری اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ اجلاس میں سینئر صحافی، ابلاغی ماہرین اور سرکاری نمائندے شریک تھے اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ میڈیا جوابدہی اور عوامی شعور بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔پاپولیشن کونسل کے سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر نے اظہارِ خیال میں کہا کہ ذمہ دار صحافت ہی وہ ذریعہ ہے جو آبادی اور وسائل کے درمیان توازن برقرار رکھنے والا قومی بیانیہ تشکیل دے سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی ایکشن پلان پر پیش رفت اسی صورت ممکن ہے جب میڈیا عمل درآمد میں موجود خلا، خدمات کی فراہمی میں رکاوٹوں اور مقامی کمیونٹیز کی زمینی حقیقتوں کو مسلسل نمایاں کرے۔انفارمیشن سروس اکیڈمی کے ڈائریکٹر عدنان اکرم باجوہ نے ادارے کی جانب سے صحافیوں کو مصدقہ معلومات اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ میڈیا کو حیرت انگیز طاقت کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ خاندان کے وسائل اور افراد کے درمیان توازن قائم ہو کر ملک کی ترقی میں مدد ملے۔پاپولیشن کونسل کے منیجر کمیونیکیشن اکرام الاحد نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے انسانی پہلو پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک رسائی میں کمی کے باعث خواتین خصوصاً دیہی علاقوں کی کم آمدنی والی خواتین میں زچگی کے دوران اموات کی شرح بدستور زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال ساٹھ لاکھ غیر ارادی حمل ہوتے ہیں جن میں سے اڑتیس لاکھ اسقاطِ حمل پر منتج ہوتے ہیں اور ان میں سے بہت سے غیر محفوظ حالات میں انجام پاتے ہیں، جو سہولیات تک رسائی کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔میڈیا کولیشن کے اراکین ظفر سلطان اور دانیال عمر نے صوبوں میں قومی ایکشن پلان کی عمل درآمد کا جائزہ پیش کیا جس میں شہروں اور دیہی علاقوں کے درمیان صحت کی سہولیات میں فرق، خاتون صحت کارکنوں کی کمی، مانعِ حمل ادویات کی فراہمی میں بار بار تعطل، پالیسیوں پر غیر مساوی نفاذ اور دور دراز اضلاع میں محدود رسائی جیسے مستقل چیلنجز سامنے آئے۔ یہ جائزہ صوبائی سطح پر عمل درآمد کے فروغ کے لیے ضروری امور کی نشان دہی کرتا ہے۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ نظامی خامیوں کی نشاندہی اور صوبائی و وفاقی وعدوں کو عملی نتیجے میں تبدیل کرنے کے لیے مستقل، شواہد پر مبنی اور ذمہ دارانہ صحافت ناگزیر ہے۔ صحافیوں نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق مسائل خصوصاً دیہی علاقوں میں تولیدی صحت اور زچگی کی سہولیات تک محدود رسائی جیسے موضوعات پر اعداد و شمار کی بنیاد پر تفصیلی رپورٹنگ عوامی آگاہی اور پالیسی سطح پر جوابدہی مضبوط کرے گی۔یو این ایف پی اے کے پروگرام اسپیشلسٹ ڈاکٹر جمیل احمد چوہدری نے خواتین اور لڑکیوں کی صحت و حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہر وہ ماں یا نومولود جس کی موت روکی جا سکتی تھی، وہ ہمیں فوری اقدامات کی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔اجلاس اختتام پر اس عزم کے ساتھ بند ہوا کہ میڈیا، سرکاری ادارے اور ترقیاتی شراکت دار مل کر تعاون کو مضبوط کریں گے تاکہ قومی ایکشن پلان کے اہداف کے حصول میں رفتار لائی جا سکے اور تولیدی صحت سے متعلق قومی اہداف کے حصول کے لیے عملی پیش رفت ممکن ہو۔
