شدید گرمی اور نہ ختم ہونے والی لوڈشیڈنگ اندھیروں میں ڈوبا ایک ملک

newsdesk
6 Min Read
شدید گرمی اور نہ ختم ہونے والی لوڈشیڈنگ: اندھیروں میں ڈوبا ایک ملک

تحریر: سعدیہ سحر حیدری

پاکستان میں گرمی کی شدت مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن بنتی جا رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حالیہ دنوں درجہ حرارت تقریباً ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس نے سال کے گرم ترین دنوں میں سے ایک کی یاد تازہ کر دی۔ گرمی کی شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایئر کنڈیشنرز اور ایئر کولرز بھی خاطر خواہ ٹھنڈک فراہم کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ گھروں کا ماحول تنور جیسا ہو چکا ہے اور معمولاتِ زندگی ایک کڑی آزمائش بن گئے ہیں۔

ایسے شدید موسم میں جب عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی اشد ضرورت ہوتی ہے، طویل بجلی بندش اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ بجلی کی ہر بندش کا مطلب ہے گھنٹوں پنکھوں، کولنگ سسٹمز اور کئی گھروں میں پانی کی فراہمی سے بھی محرومی۔ اس صورتحال نے بچوں، بزرگوں، مریضوں اور عام شہریوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ عوام ایک طرف بھاری بھرکم بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں اور دوسری طرف طویل لوڈشیڈنگ بھی برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز ( ) کئی برسوں سے پاکستان کے توانائی کے شعبے کا حصہ ہیں، مگر اس کے باوجود عوام یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ کیا موجودہ نظام ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات، خصوصاً گرمیوں کے عروج پر، پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ حالیہ شدید گرمی کی لہر نے ان خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

دوسری جانب وہ صارفین جنہوں نے نیٹ میٹرنگ کے تحت اپنے گھروں میں سولر سسٹم نصب کیے ہیں، اضافی بجلی قومی گرڈ میں بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ اس سے بجلی کی مجموعی فراہمی میں مدد ملتی ہے، لیکن اس کے باوجود بجلی کی قلت ختم نہیں ہو سکی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف بجلی پیدا کرنے کا نہیں بلکہ اس کی مؤثر ترسیل اور تقسیم کا بھی ہے۔

اگر اسلام آباد جیسے شہر میں یہ صورتحال ہے تو ملک کے دیگر بڑے شہروں، چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں کے عوام کی مشکلات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ کئی علاقوں میں روزانہ صرف چند گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کاروبار متاثر ہو رہے ہیں، طلبہ شدید گرمی میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، ہسپتالوں کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے اور عام شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

یہ بحران مجھے پاکستان کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ہونے والی ایک گفتگو بھی یاد دلاتا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اگر پالیسی ساز سنجیدگی اور دور اندیشی سے کام لیں تو پاکستان ایٹمی توانائی کے ذریعے وافر مقدار میں بجلی پیدا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی منصوبہ بندی نہ صرف ملک کی اندرونی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتی ہے بلکہ مستقبل میں پاکستان کو بجلی برآمد کرنے والے ممالک کی صف میں بھی کھڑا کر سکتی ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ ان کا یہ خواب کس حد تک حقیقت بن سکتا تھا، لیکن ان کی بات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان میں باصلاحیت سائنسدانوں اور ماہرین کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اصل مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ علم، تحقیق اور قومی صلاحیتوں کو ایسی مؤثر پالیسیوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکا جو عام آدمی کی زندگی میں حقیقی آسانی پیدا کر سکیں۔

آج توانائی کا بحران صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی فلاح کا معاملہ بن چکا ہے۔ صحت، تعلیم، صنعت، زراعت اور قومی معیشت کا انحصار قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان کو پائیدار توانائی کے منصوبوں، جدید انفراسٹرکچر، بہتر ترسیلی نظام اور مؤثر انتظامی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔

پاکستان کے عوام وقتی وعدوں یا عارضی اقدامات سے بڑھ کر ایک ایسے مضبوط اور قابلِ اعتماد توانائی نظام کے مستحق ہیں جو شدید گرمی میں گھروں کو ٹھنڈا، صنعتوں کو فعال اور شہریوں کو محفوظ رکھ سکے۔ ملک کا مستقبل صرف زیادہ بجلی پیدا کرنے سے وابستہ نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ یہ بجلی ہر شہری تک بروقت، مسلسل اور منصفانہ انداز میں پہنچے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی اور مؤثر اصلاحات کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان کا کوئی بھی شہری شدید گرمی کے موسم میں اندھیروں، اذیت اور بے بسی کا شکار نہ رہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے