سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے پاہلگام واقعہ کے ایک سال مکمل ہونے پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت کی بےبنیاد کارروائیوں اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے شدید провوکیشن کے باوجود زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا اور علاقائی عدم استحکام کے لئے سازشوں کو بے نقاب کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے اپنی سرحدی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لئے پوری تیاری برقرار رکھی، تاہم ہر اقدام میں داخلی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ذمہ داری اور ضبط دکھایا گیا۔ چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا ردعمل نہ صرف متناسب تھا بلکہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں بھی تھا۔
چیئرمین نے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم کو سراہا اور کہا کہ فورسز کی چوکسی اور روکسٹ صلاحیت نے قومی خودمختاری کو مضبوطی سے محفوظ رکھا اور کشیدہ ماحول میں دشمنانہ منصوبوں کو ناکام بنایا۔ ان کی بریفنگ نے دفاعی تیاری کی واضح تصویر پیش کی۔
سید یوسف رضا گیلانی نے زور دیا کہ پاہلگام واقعہ کی حقیقت جاننے کے لئے ایک غیرجانبدار، شفاف اور شواہد پر مبنی تفتیش ضروری ہے تا کہ حقائق سامنے آئیں اور معاملات کی سیاست بازی سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار ممالک کو یکطرفہ فیصلوں یا المناک واقعات کی سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
چیئرمین نے بھارت کی یکطرفہ اور مہم جوانہ کارروائیوں بشمول آپریشن سندور کی سخت مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات علاقائی امن اور اسٹریٹجک توازن کے لئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ دشمن عناصر کی حمایت اور مداخلت ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔
وہیں انہوں نے دریائے انڈس کے معاہدے کو کمزور کرنے کے کسی بھی اقدام کے خلاف سخت انتباہ کیا اور کہا کہ ایسی زبردستی کوششیں خطرناک ہوئی گی اور خطے کی آبادیاتی و ماحولیاتی سلامتی کو متاثر کریں گی۔ چیئرمین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان امن کے لیے پرعزم ہے لیکن کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کا مؤثر، متناسب اور فیصلہ کن جواب دے گا اور اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔
پاہلگام واقعہ ایک سال بعد سینیٹ کا موقف
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
