اسلام آباد: پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے بدھ کے روز دورۂ پاکستان پر آئی ہوئی جنوبی کوریا کی ہاکی ٹیم کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، جس کا مقصد کھیلوں کے ذریعے سفارتی روابط، بین الاقوامی دوستی اور پاکستان کی کھیلوں کی فیڈریشنز کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
جنوبی کوریا کی ہاکی ٹیم اس وقت قومی ٹیم کے خلاف ایف آئی ایچ سے منظور شدہ بین الاقوامی ہاکی سیریز کے لیے پاکستان کے دورے پر ہے۔ اس استقبالیہ تقریب میں پاکستان کی روایتی مہمان نوازی کو اجاگر کیا گیا اور مختلف کھیلوں کے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وفاقی سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے قائم مقام صدر محی الدین وانی نے پی ایف ایف کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی کھیلوں سے وابستگی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے گرمجوش استقبال کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر قومی اسپورٹس فیڈریشنز بھی ایسے اقدامات کریں گی تاکہ پاکستان کو ایک مہمان نواز اسپورٹنگ ڈیسٹینیشن کے طور پر مزید مضبوط انداز میں پیش کیا جا سکے۔
پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے جنوبی کوریائی وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی شاندار ہاکی روایت کے لیے فیڈریشن کے احترام کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ہاکی کو ملک کا قومی کھیل قرار دیتے ہوئے اس کی نمایاں کامیابیوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاکی کی یہ میراث فٹبال برادری کے لیے بھی تحریک کا باعث ہے جو ملک بھر میں اس کھیل کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔
پی ایف ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد شاہد نیاز کھوکھر نے کہا کہ یہ استقبالیہ اس کھیل کو ایک عاجزانہ خراج تحسین ہے جس نے پاکستان کو کھیلوں کے میدان میں بعض بہترین کامیابیاں دلائیں۔ انہوں نے فٹبال اور ہاکی کی باہمی ترقی کے لیے پی ایچ ایف کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کو مزید قریب کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
پی ایف ایف صدر کے مشیر برائے حکومتی تعلقات ایاب احمد نے پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے ثقافتی اور کھیلوں کے تبادلوں کا خیرمقدم کیا، جبکہ اسلام آباد فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر شیخ احمد ریحان نے مہمان ٹیم کے لیے پاکستان میں کامیاب اور یادگار قیام کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
پی ایف ایف کانگریس کے رکن راجہ محمد اشتیاق اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن وسیم راجہ نے بھی اس اقدام کو سراہا اور اسے فیڈریشنز کے درمیان تعاون کے فروغ اور کھیل کے ذریعے خیرسگالی بڑھانے کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔
