کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس، آئی پی پیز مافیا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی عوامی جدوجہد جاری رہے گی۔ حکومت کو پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس ختم اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدے منسوخ کرنا ہوں گے۔
ادارہ نورحق کراچی میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 3 ستمبر کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال تاریخ ساز ہوگی، جس کے بعد جماعت اسلامی آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد لانگ مارچ کی کال، اسلام آباد اور راولپنڈی میں دھرنے اور دھرنوں کو ملک بھر میں پھیلانے کے آپشن موجود ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن کے مطابق بدھ کو اٹھارویں روز بھی چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے جاری ہیں۔ پشاور کا دھرنا پانچ دھرنوں میں تبدیل ہوچکا ہے، حیدر آباد کا دھرنا دس دن سے جاری ہے جبکہ اندرون سندھ کے شہروں سمیت چترال جیسے علاقے میں بھی دھرنا جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اور دھرنوں میں عوام کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تاجر برادری نے کراچی سمیت ملک بھر میں پیٹرول لیوی بھتہ اور آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک اور 3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کی غیر معمولی اور متفقہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس انداز میں آئی پی پیز کو نوازا جارہا ہے اور لیوی بھتہ ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، یہ عوام پر بہت بڑا ظلم ہے اور اس پر خاموش رہنا بھی ظلم ہے۔
انہوں نے حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اس عوامی جدوجہد کا حصہ بنیں کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کے دل کی آواز ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مہنگے پیٹرول اور بجلی نے ملک کے ہر شہری کو پریشان اور بدحال کردیا ہے، لیکن حکومت، وزراء اور حکمران جماعتوں کو عوامی مسائل اور مہنگائی سے کوئی دلچسپی نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کو یہ شعور دیا ہے کہ حکمران کس طرح عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں اور تقریباً پانچ ملین فور وہیکل گاڑیاں ہیں۔ موٹر سائیکل غریب اور عام لوگوں کی سواری ہے، مگر پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونے کے باعث خاندان کے کئی افراد ایک ہی موٹر سائیکل پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی غریب طبقے سے ایک لیٹر پیٹرول پر 130 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں جو سراسر ظلم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ختم نہیں ہوتیں، ان کے پروٹوکولز اور پیٹرول وغیرہ کا سارا بوجھ غریب طبقہ اٹھاتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کے مطابق چند آئی پی پیز کو 1700 ارب روپے سے زائد کی رقم اس بجلی کی مد میں دی گئی جو انہوں نے بنائی ہی نہیں، اور یہ رقم غریب عوام کی جیبوں سے نکالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود آئی پی پیز میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی کمپنیاں پاکستان سے باہر رجسٹرڈ کرائی ہوئی ہیں اور وہ اپنی آمدنی کا انکم ٹیکس بھی پاکستان میں ادا نہیں کرتے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران غریب آدمی کو ٹیکس فری نہیں کرسکتے، لیکن بڑی چینی مافیاز جو اربوں روپے کی چینی امپورٹ کرتی ہیں، انہیں ٹیکس فری کردیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں شدید مہنگائی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی آئی پی پیز کے خلاف جدوجہد سے پہلے کہا جاتا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ عالمی عدالت میں چلے جائیں گے، مگر ہماری جدوجہد کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا اور دھرنوں کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں کمی ہوئی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران آئے دن مہنگائی کم کرنے کے دعوے کرتے ہیں، لیکن ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی میں 11.2 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔
ایک سوال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انتظامی یونٹس بنانے اور صوبوں کی تقسیم پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے بلاول زرداری سے سوال کیا کہ وہ کراچی سے پیپلز پارٹی کی سات نشستوں کے فارم 45 دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے بھی کراچی کے ساڑھے پانچ ہزار پولنگ اسٹیشنز اور 20 ہزار سے زائد بوتھس میں سے ایک بھی نہیں جیتی، لیکن انہیں درجنوں نشستیں دے دی گئیں۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ فارم 47 والے حکمران انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تقسیم جیسے بڑے فیصلے نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے کہا کہ وہ اپنی نورا کشتی بند کریں اور سندھی مہاجر دوریاں اور نفرتیں پیدا نہ کریں۔
پریس کانفرنس میں نائب امرائے کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، راجہ عارف سلطان، مسلم پرویز، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے۔
