پاکستانی طالبہ کا فارمولوں سے بادشاہی مسجد کا اسکیچ

newsdesk
4 Min Read
شانزے خٹک کا طبیعیاتی فارمولوں سے تیار کردہ بادشاہی مسجد کا اسکیچ

`کینیا میں مقیم پاکستانی طالبہ نے فزکس کے فارمولوں سے بادشاہی مسجد کا منفرد خاکہ تیار کر لیا

اسلام آباد: کینیا میں مقیم 18 سالہ پاکستانی طالبہ شنزے خٹک نے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کا ایک منفرد ہاتھ سے تیار کردہ خاکہ بنا کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا ہے، جس کی ہر لکیر انتہائی باریک فزکس کے فارمولوں سے تشکیل دی گئی ہے۔ اس غیر معمولی فن پارے کو مکمل کرنے میں انہیں ایک سال کا عرصہ لگا۔

شنزے خٹک نے بتایا کہ یہ فن پارہ ان کے لیے صرف ایک ڈرائنگ نہیں بلکہ پاکستان، اس کی تاریخ، ثقافت اور اپنے وطن سے محبت کے جذبات کا اظہار ہے، جسے انہوں نے فزکس جیسے مشکل مضمون کے ساتھ جوڑ کر ایک منفرد انداز میں پیش کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پیشہ ور مصورہ نہیں ہیں بلکہ گیارہویں جماعت کے دوران اس منصوبے کا آغاز کیا، جسے بارہویں جماعت میں مسلسل ایک سال کی محنت کے بعد مکمل کیا۔ ان کے مطابق خاکے کی ہر لکیر اور نقش انتہائی باریک فزکس کے مساوات (Physics Formulae) سے تشکیل دیا گیا ہے، جنہیں واضح طور پر دیکھنے کے لیے میگنیفائنگ گلاس کی ضرورت پڑتی ہے۔

شنزے کا کہنا تھا کہ فزکس ہمیشہ ان کے لیے ایک مشکل مضمون رہا، تاہم جب بھی وہ اس مضمون سے گھبراہٹ محسوس کرتیں یا وطن پاکستان کی یاد شدت سے ستاتی، تو وہ اس خاکے پر کام شروع کر دیتیں۔ ان کے بقول اگرچہ وہ جسمانی طور پر کینیا میں رہتی ہیں، لیکن ان کا دل اور ذہن ہمیشہ پاکستان سے جڑا رہتا ہے۔

انہوں نے بادشاہی مسجد کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کی ایک نمایاں علامت ہے۔ ان کے مطابق فزکس کے فارمولوں کے ذریعے اس عظیم تاریخی ورثے کو دوبارہ تخلیق کرنا دراصل اپنے وطن سے محبت اور بیرون ملک رہتے ہوئے پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک منفرد طریقہ تھا۔

شنزے خٹک نے بتایا کہ یہ منصوبہ ان کے لیے ذاتی تربیت کا بھی ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا۔ انہوں نے جان بوجھ کر ڈرائنگ میں ہونے والی معمولی غلطیوں کو مٹانے یا صفحہ دوبارہ شروع کرنے کے بجائے انہیں قبول کیا، تاکہ خود کو یہ سکھا سکیں کہ کمال پسندی (Perfectionism) ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور انسان اپنی خامیوں کو قبول کر کے ہی آگے بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پورے سفر نے انہیں یہ احساس دلایا کہ حقیقی کامیابی غلطیوں سے سیکھنے اور مسلسل جدوجہد کرنے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اس سوچ کو پاکستان سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کا وطن بھی اپنی تاریخ میں بے شمار مشکلات اور زخموں سے گزرا ہے، لیکن اس کے باوجود ہمیشہ ثابت قدم رہا اور آگے بڑھنے کا حوصلہ برقرار رکھا۔

شنزے خٹک کا یہ منفرد فن پارہ نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں، محنت اور سائنسی دلچسپی کا مظہر ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کے اپنے وطن سے گہرے جذباتی تعلق اور قومی ورثے سے محبت کی بھی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔

Share This Article
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے