مری: سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے زیر اہتمام، ٹی ڈی ای اے کے اشتراک سے، پاکستان ویمن لیڈرز (پی ڈبلیو ایل) منصوبے کے تحت مری میں ضلعی تعارفی سیشن منعقد کیا گیا۔ پاکستان ویمن لیڈرز اقوام متحدہ خواتین (یو این ویمن) کا اقدام ہے جسے یورپی یونین (ای یو) کی مالی معاونت حاصل ہے۔
سیشن میں مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں، بار ایسوسی ایشن، میڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد شرکا کو پاکستان ویمن لیڈرز منصوبے سے آگاہ کرنا اور خواتین کے لیے سیاسی، سماجی اور فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر شمولیت کے مواقع متعارف کرانا تھا۔
اس موقع پر ایس ایس ڈی او کی جانب سے شرکا کو خوش آمدید کہا گیا اور ادارے کے سماجی و ترقیاتی شعبوں میں کام اور کردار کا مختصر تعارف پیش کیا گیا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ خواتین معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے انہیں قیادت اور فیصلہ سازی کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تعارفی سیشن کے دوران منصوبے کے مقاصد، سرگرمیوں اور دستیاب مواقع کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ پاکستان ویمن لیڈرز منصوبے کا مقصد خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، ان کے اعتماد میں اضافہ کرنا اور انہیں سیاسی و سماجی عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔
شرکا کو آن لائن درخواست جمع کرانے کے طریقہ کار کے بارے میں عملی رہنمائی بھی فراہم کی گئی۔ پاکستان ویمن لیڈرز کے آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست دینے کے مختلف مراحل کی وضاحت کی گئی، جن میں مطلوبہ معلومات درج کرنے، درخواست فارم مکمل کرنے اور کامیابی سے درخواست جمع کرانے کا طریقہ شامل تھا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ڈبلیو ایل 34 ماہ پر مشتمل پروگرام ہے جو پاکستان کے 57 اضلاع میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ پروگرام کے تحت خواتین کو تربیتی سیشنز، بوٹ کیمپس، مینٹورشپ، نیٹ ورکنگ اور قیادت کی ترقی سے متعلق دیگر سرگرمیوں کے ذریعے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
سیشن کے دوران شرکا نے خواتین کی سیاسی و سماجی شرکت، اہلیت کے معیار، نامزدگی اور انتخاب کے طریقہ کار سمیت پروگرام کے مختلف پہلوؤں سے متعلق سوالات کیے۔ ان سوالات کے جوابات دیے گئے اور ضروری رہنمائی فراہم کی گئی۔
شرکا نے پاکستان ویمن لیڈرز منصوبے کو خواتین کے لیے قائدانہ مواقع پیدا کرنے اور انہیں معاشرے میں زیادہ بامعنی کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے ایک اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی تنظیمیں، میڈیا، بار ایسوسی ایشنز اور دیگر ادارے اپنے اپنے نیٹ ورکس میں اہل اور باصلاحیت خواتین تک اس پروگرام کی معلومات پہنچائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس مفید موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
