اسلام آباد: وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان پارلیمانی سفارت کاری، عوامی روابط اور مختلف شعبوں میں وسیع تر تعاون کے ذریعے امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وہ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان امریکا پارلیمانی فرینڈشپ گروپ اور امریکا کے دورے پر آئے ہوئے کانگریسی وفد کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے حوالے سے اظہار خیال کر رہے تھے۔ ملاقات کی قیادت کنوینر اور رکن قومی اسمبلی سید حسین طارق نے کی، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امریکی وفد میں کانگریس مین ریان زنکی اور مائیکل بامگارٹنر شامل تھے۔
بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا کہ پاکستانی عوام حالیہ پاکستان بھارت کشیدگی کے دوران تناؤ میں کمی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفارتی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کردار دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعلقات کی مثبت سمت کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مضبوط پارلیمانی روابط باہمی تفہیم کو فروغ دیتے ہیں اور تجارت، تعلیم، سرمایہ کاری، تعلیمی تبادلوں اور ادارہ جاتی شراکت داری کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔
پارلیمانی سیکرٹری نے دونوں ممالک کے درمیان قانون ساز سطح کے روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا کہ امریکی وفد کا دورہ پاکستان اور ملک کی عسکری قیادت سے ملاقاتیں، جن میں علاقائی امن کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا گیا، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان امریکا تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں جانب تعاون کو بڑھانے کی خواہش موجود ہے۔
انہوں نے پیو ریسرچ سینٹر کے حالیہ سروے کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام چین کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی پر فخر کرتے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا کے بارے میں منفی تاثر پایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور باہمی احترام، مشترکہ مفادات، سفارتی پیش رفت، پارلیمانی روابط اور عوامی سطح کے رابطوں پر قائم ہیں۔
ملاقات میں شریک دیگر ارکان پارلیمنٹ نے بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا اور سروے کے نتائج کو عوامی جذبات کا نمائندہ قرار دینے سے انکار کیا۔
