گلوبل بالغ تمباکو سروے ۲۰۲۴ کے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ۲۰۱۴ تا ۲۰۲۴ کے دوران تمباکو کی کھپت میں ۱۵٫۷ فیصد کمی واقع ہوئی، تاہم اب بھی ۱۵ سال اور اس سے زائد عمر کے اندازاً ۱۶٫۱ فیصد افراد تمباکو مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ سالانہ تمباکو سے متعلق اموات تقریباً ۱۶۳٬۶۰۰ ہیں اور معیشت کو سالانہ تقریباً ۱۸۰۰ ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے (تقریباً ۶٫۶ بلین امریکی ڈالر)۔ یہ سروے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز نے وزارتِ صحت، تمباکو کنٹرول سیل اور عالمی ادارہ صحت کی معاونت سے کیا اور اس میں ایک لاکھ کے قریب نہیں بلکہ ۱۱٬۰۰۰ سے زائد مکمل انٹرویوز شامل تھے جن کی شمولیت کی شرح ۹۵٫۶ فیصد رہی۔سروے کے نتائج عالمی ادارہ صحت کی مہم "اپیل کا نقاب اٹھائیں — نکوتین اور تمباکو کی لت کا مقابلہ” کے تناظر میں اور یومِ بغیر تمباکو کے موقع پر پیش کیے گئے۔ وفاقی وزیرِ صحت کے وژن کے تحت پیش آنے والے اعداد و شمار نے ثابت کیا کہ منظم پالیسی اقدامات کے ذریعے تمباکو کنٹرول ممکن ہے، مگر چیلنجز باقی ہیں۔دھواں سے متاثر ہونے والے مقامات میں دس سال کے دوران واضح کمی دیکھی گئی ہے؛ گھروں میں نمائش ۴۸٫۳ فیصد سے گھٹ کر ۲۸٫۸ فیصد ہوئی، کام کے مقامات پر ۶۹٫۱ فیصد سے کم ہو کر ۳۵٫۹ فیصد رہ گئی جبکہ سرکاری عمارتوں، ذاتی عمارتوں، صحت کی سہولیات، ریستورانوں، شادی ہالوں، عوامی آمد و رفت اور تعلیمی اداروں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح دکانی اشتہارات اور عمومی تشہیر میں بھی کمی نوٹ کی گئی جو کہ تمباکو کنٹرول کے اقدامات کی اہم کامیابی ہے۔سروے میں خواتین میں تمباکو کے استعمال میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور خواتین استعمال کرنے والوں کی شرح ۵٫۹ فیصد ریکارڈ ہوئی جو پچھلے سروے کے مقابلے میں ۱٫۷ فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح گزشتہ ۱۲ ماہ میں چھوڑنے کی کوشش کرنے والوں کی شرح معمولی کمی کے ساتھ ۲۴٫۱ فیصد رہ گئی اور صحت کے پیشہ ور افراد کی جانب سے چھوڑنے کی ہدایت کی شرح بھی معمولی کمی کے ساتھ ۴۹٫۹ فیصد درج ہوئی۔سروے یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عوامی حمایت موجود ہے اور کافی صارفین تمباکو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، اس لیے مؤثر تمباکو کنٹرول اقدامات جیسے ٹوبیکو ٹیکس، اشہاربندی اور صحت بخش خدمات میں مضبوطی اہمیت رکھتی ہیں۔ پالیسی سازوں کے لیے یہ موقع ہے کہ عوامی رائے اور سروے کے شواہد کی بنیاد پر پابندیاں اور سہولتیں مزید سخت اور مؤثر بنائی جائیں۔۲۰۱۴ کے بعد پاکستان نے متعدد اہم پالیسیاں نافذ کیں جن میں مالی سال ۲۰۲۲ تا ۲۰۲۳ میں ٹوبیکو پر ٹیکس میں اضافہ، پیکجنگ پر بڑے تصویری انتباہات، کھلے پیکٹ میں سگریٹ کی فروخت پر پابندی، قومی تمباکو کنٹرول حکمتِ عملی ۲۰۲۲ تا ۲۰۳۰ کا اجراء اور صوبائی سطح پر کنٹرول سیلز اور مانیٹرنگ کمیٹیوں کا قیام شامل ہے۔ ان اقدامات نے سروے میں نظر آنے والی نزولی رجحانات میں کردار ادا کیا ہے۔وزارتِ صحت کے سیکریٹری محمد اسلم گھاوری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو اور نکوتین صنعت نئی تکنیکوں سے نوجوان طبقات کو نشانہ بنا رہی ہے، برقی سگریٹ، ویپنگ آلات اور گرم شدہ تمباکو مصنوعات کے علاوہ ڈیجیٹل تشہیر نے اس چیلنج کو پیچیدہ کر دیا ہے، اس لیے منظم اور مربوط حکمتِ عملی انتہائی ضروری ہے۔عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لوؤ ڈاپینگ نے کہا کہ تمام تمباکو اور نکوتین مصنوعات صحت کے لیے سنگین نقصان دہ ہیں اور بین الاقوامی تعاون اور واضح پالیسیوں کے ذریعے زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مضبوط شواہد کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔اسی موقع پر وزیرِ صحت مصطفےٰ کامل کی ورلڈ بینک گروپ کی نائب صدر مامتا مورتی سے ملاقات میں صحت نظام کی مضبوطی، بنیادی طبی خدمات کی توسیع، ماں اور بچے کی صحت، قد کم ہونے کی روک تھام اور ٹہنیکی اصلاحات پر بات چیت ہوئی۔ وزیر نے بیماری کی روکتھام، ڈیجیٹل ہیلتھ اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے سہولتِ علاج کو بڑھانے اور دو ہزار تیس کے عشرے تک مقامی ویکسین سازی کے اہداف کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ ورلڈ بینک کی نمائندہ نے تعاون جاری رکھنے اور وزیر کو اجارہِ دعوت دی کہ وہ جامع صحت فورم ۲۰۲۶ میں شرکت کریں تاکہ آئندہ اقدامات کو تیز کیا جا سکے۔
