بچوں کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا ہے کہ سگریٹ پر مضبوط ٹیکس پالیسیاں نہ صرف صحت کے اخراجات کم کریں گی بلکہ وفاقی محصولات میں بھی اضافہ کر سکتی ہیں۔ تنظیم کی تحقیق کے مطابق مناسب ریٹ میں اضافہ وفاقی خزانے کو اضافی 51 ارب روپے سالانہ تک فراہم کر سکتا ہے جب کہ تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی متوقع ہے۔ملک میں تقریبا 31 ملین بالغ افراد تمباکو مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے سالانہ تقریباً 192,000 اموات ہوتی ہیں، جو روزانہ تقریباً 526 انسانی جانوں کے برابر ہے۔ یہ اموات زیادہ تر دل کی بیماریوں، کینسر اور دیگر سگریٹ سے منسلک بیماریاں ہیں۔ اسی لیے سگریٹ ٹیکس کو پالیسی کا مرکز بنانے کی سفارش کی جا رہی ہے تاکہ صحتی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تمباکو سے متعلقہ صحت کے اخراجات تقریبا 1,835 ارب روپے بنتے ہیں جو ملکی پیداوار کا تقریباً 1.6 فیصد ہے، جبکہ موجودہ تمباکو محصولات تقریباً 266 ارب روپے ہیں۔ اس حساب سے ہر ایک روپے کی محصولی آمدنی کے بدلے علاج پر تقریباً سات روپے خرچ ہو رہے ہیں، جو معیشت کے لیے سنگین نقصان ہے۔ماہرین نے نشاندہی کی کہ فروری 2023 کے بعد وفاقی ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہیں آئی جس کی وجہ سے سگریٹ خاص طور پر سستی برانڈز کی قیمتوں میں نسبتاً استحکام رہا اور افراطِ زر کے مقابلے میں سگریٹ کی خریداری زیادہ قابلِ برداشت ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد کے لیے سگریٹ تک رسائی آسان کر دی ہے۔مسودہ سفارشات میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ وفاقی بجٹ میں کم قیمت سگریٹس پر فی پیکٹ 35 روپے اور پریمیئم برانڈز پر فی پیکٹ 21 روپے اضافی وفاقی ایکسائز ڈیوٹی نافذ کی جائے اور بتدریج یکساں ٹیکس ڈھانچے کی طرف منتقلی کی جائے تاکہ صارفین سستی برانڈز کی طرف منتقل نہ ہوں اور خصوصی طور پر بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ تک رسائی روکی جا سکے۔تنظیم کے تجزیے کے مطابق تجویز کردہ ٹیکس اصلاحات سے نہ صرف محصولات میں اضافی 51 ارب روپے تک آمدنی ممکن ہے بلکہ تقریباً 370,000 نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع ہونے سے روکا جا سکتا ہے اور قریباً 270,000 موجودہ سگریٹ نوشوں کو ترک کرنے یا استعمال کم کرنے کی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے نتائج صحت عامہ کو مضبوط کریں گے اور طویل مدتی میں طبی اخراجات میں خاطر خواہ کمی لائیں گے۔ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ بین الاقوامی تجربات واضح کرتے ہیں کہ سگریٹ ٹیکس میں اضافہ سب سے مؤثر اقدامات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے عالمی صحت کی رہنمائی اور بین الاقوامی فریم ورک کے مطابق ٹیکس پالیسیوں کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صحت اور محصولات دونوں کو یکجا کر کے پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ آخرکار یہ فیصلہ پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے کہ اگلے وفاقی بجٹ میں کن اصلاحات کو ترجیح دی جائے۔
