عقبہ، اردن: پاکستان کی مینز رگبی سیونز ٹیم نے ایشیا رگبی ایمریٹس سیونز ٹرافی ویسٹ اینڈ سینٹرل 2026 میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے کانسی کا تمغہ حاصل کر لیا۔ یہ ایونٹ 6 اور 7 نومبر کو اردن کے شہر عقبہ میں کھیلا گیا۔
پاکستان کے لیے اس مہم کی ایک اور نمایاں بات محسن رضا کی انفرادی کارکردگی رہی، جنہوں نے ٹورنامنٹ میں سات ٹرائیز کے ساتھ سب سے زیادہ ٹرائی اسکور کرنے والے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی جارحانہ کھیلنے کی صلاحیت پاکستان کی کامیابی میں اہم رہی۔
نو ٹیموں پر مشتمل اس مقابلے میں خطے کی ٹیمیں اعزازات اور 2027 ایشیا رگبی ایمریٹس سیونز سیریز میں ترقی کے لیے میدان میں اتریں۔ پاکستان نے اپنی مہم کا آغاز بھرپور انداز میں کیا اور شام کو 50-0 جبکہ عمان کو 40-0 سے شکست دی۔ بعد ازاں پاکستان نے لبنان کے خلاف سخت مقابلے کے بعد 14-10 سے کامیابی حاصل کی۔ ان نتائج نے قومی ٹیم کو مضبوط دعویداروں میں شامل کیا اور کانسی کے تمغے تک رسائی کی راہ ہموار کی۔
کپتان عاقب اور ہیڈ کوچ کاشف خواجہ کی قیادت میں قومی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران عمدہ ٹیم ورک، حملہ آور کھیل اور بھرپور عزم کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان رگبی یونین کے صدر رضوان ملک نے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کانسی کے تمغے کو پاکستان رگبی کے لیے باعث فخر قرار دیا۔
رضوان ملک نے کہا کہ کانسی کا تمغہ جیتنا پاکستان رگبی کے لیے فخر کا لمحہ ہے اور یہ کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کی محنت، لگن اور عزم کا صلہ ہے۔ ان کے مطابق محسن رضا کا سات ٹرائیز کے ساتھ ٹورنامنٹ کا ٹاپ ٹرائی اسکورر بننا اس کامیابی کو مزید خاص بناتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محمد غالب جاوید اور محمد منان نسیم پر بھی فخر ہے جنہوں نے پاکستان کی نمائندگی ریفریز کی حیثیت سے کی۔ رضوان ملک کے مطابق کھلاڑیوں، کوچز اور میچ آفیشلز کی بیک وقت ترقی پاکستان رگبی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ سے قیمتی بین الاقوامی تجربہ حاصل ہوا ہے اور مستقبل کے عالمی مقابلوں کی تیاری کے لیے اعتماد ملا ہے۔
عقبہ میں پاکستان کی نمائندگی صرف میدان تک محدود نہیں رہی۔ محمد غالب جاوید اور محمد منان نسیم نے ریفریز کے طور پر فرائض انجام دیے، جس سے پاکستانی میچ آفیشلز کو بین الاقوامی سطح پر تجربہ اور ترقی کے مواقع ملے۔
کانسی کے تمغے کے ساتھ محسن رضا کی غیر معمولی کارکردگی پاکستان رگبی کے لیے ایک کامیاب بین الاقوامی مہم کی علامت ہے۔ اردن میں حاصل ہونے والا تجربہ قومی ٹیم کے لیے آئندہ بین الاقوامی مقابلوں، بشمول سیف گیمز کی تیاریوں، میں اہم رفتار فراہم کرے گا۔
عقبہ میں پاکستان کی کارکردگی ملک میں رگبی کے فروغ کے لیے حوصلہ افزا اشارہ ہے اور نوجوان کھلاڑیوں، کوچز اور میچ آفیشلز کو بین الاقوامی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کرنے کی تحریک دے گی۔
