ایران۔امریکا کشیدگی میں پاکستان کا کلیدی کردار اور معاشی خوشحالی کی نئی راہیں
تحریر: پروفیسر ندیم اقبال
نیسنل اسکلز یونیورسٹی، اسلام آباد

عالمی سیاست کے غیر یقینی اور ہنگامہ خیز ماحول میں حالیہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران پاکستان نے تدبر، سفارت کاری اور ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے اہم خدمات انجام دیں۔ بروقت سفارتی کوششوں اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ ایک ایسے ممکنہ بڑے علاقائی بحران کو بھی ٹالنے میں مدد دی، جو عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔
جب 2026 کے اوائل میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں کو خطرات لاحق ہوئے تو پاکستان نے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے متوازن تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت نے مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے برقرار رکھے، اسلام آباد میں اہم مشاورت کا انعقاد کیا اور قطر، چین، سعودی عرب سمیت دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا۔
پاکستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی، ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور امریکا کے ساتھ سفارتی روابط نے اسے ایک مؤثر ثالث کے طور پر نمایاں کیا۔ پاکستان نے ہمیشہ امن، مکالمے اور علاقائی استحکام کو ترجیح دی، جس کے باعث عالمی مبصرین نے اس کے کردار کو سراہا اور اسے ایک ذمہ دار ریاست قرار دیا۔
اس مثبت سفارتی کردار کے بعد پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بہتر عالمی ساکھ کو معاشی فوائد میں تبدیل کرے۔ خطے میں امن کی بحالی کے بعد ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
توانائی کے شعبے میں ایران پاکستان کے لیے ایک اہم شراکت دار بن سکتا ہے۔ ایران کے وسیع تیل اور گیس کے ذخائر پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سستی گیس دستیاب ہوگی بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت کم، بجلی کی قیمتوں میں استحکام اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہوگا۔
دفاعی تعاون بھی دونوں ممالک اور خلیجی ریاستوں کے درمیان مضبوط اقتصادی روابط کی بنیاد بن سکتا ہے۔ پاکستان دفاعی سازوسامان، تربیت اور تکنیکی مہارت کے شعبوں میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے، جس سے برآمدات، روزگار اور علاقائی تعاون کو فروغ مل سکتا ہے۔
پاکستان اپنے ہنر مند افرادی قوت کو ایران، قطر، سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں مزید مؤثر انداز میں متعارف کرا سکتا ہے۔ انجینئرز، طبی ماہرین، تعمیراتی شعبے کے کارکنان اور دیگر تکنیکی ماہرین کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے ترسیلات زر میں اضافہ اور ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔
تعلیمی تعاون بھی دونوں خطوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مشترکہ تحقیقی منصوبے، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے اور تعلیمی وظائف نوجوان نسل کو جدید علوم اور بین الاقوامی تجربات سے روشناس کرائیں گے۔
اسی طرح ایران پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے پیٹروکیمیکل، ٹیکسٹائل، دواسازی اور دیگر صنعتی شعبوں میں مشترکہ منصوبے قائم کر سکتا ہے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، ٹیکنالوجی کی منتقلی ہوگی اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا۔
گوادر بندرگاہ اس پورے خطے کی معاشی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر کو ایران، چین، وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب کے درمیان تجارتی مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ بہتر شاہراہوں، ریلوے روابط اور جدید لاجسٹکس کے ذریعے پاکستان خطے کی اہم تجارتی گزرگاہ بن سکتا ہے، جبکہ ایران اور چین کی شراکت سے اس منصوبے کی افادیت میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو فعال سفارت کاری، مؤثر پالیسی سازی، سرمایہ کار دوست ماحول، شفاف طرز حکمرانی، انسانی وسائل کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔ سیاسی استحکام، احتساب اور اصلاحات بھی بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔
پاکستان نے حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے عالمی سطح پر ایک مثبت تاثر قائم کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سفارتی کامیابی کو معاشی ترقی، علاقائی تجارت، توانائی کے تعاون، صنعتی سرمایہ کاری، دفاعی شراکت داری اور تعلیمی روابط میں تبدیل کیا جائے تاکہ ملک پائیدار اقتصادی ترقی، غربت میں کمی اور خطے میں ایک مضبوط معاشی قوت کے طور پر ابھر سکے۔
اگر پاکستان اس موقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھاتا ہے تو نہ صرف قومی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ جنوبی اور مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے نئے امکانات بھی روشن ہوں گے۔
Professor Nadeem Iqbal: National skills University Islamabad
