محفوظ کام گاہوں کے لیے قومی پالیسی پر مشاورت، صفر مسودہ زیرِ غور

newsdesk
6 Min Read
وزارتِ سمندر پار پاکستانی و ترقیٔ انسانی وسائل اور آئی ایل او کے تعاون سے او ایس ایچ پالیسی کے صفر مسودے پر قومی مشاورت۔

اسلام آباد، 9 ستمبر 2026ء: پاکستان میں محفوظ اور صحت مند کام گاہوں کے فروغ کے لیے نئی قومی پیشہ ورانہ تحفظ و صحت (او ایس ایچ) پالیسی پر کام آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں قومی اسٹیک ہولڈرز مشاورت منعقد ہوئی، جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، آجروں اور مزدور نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا تاکہ پاکستان کی بدلتی ہوئی دنیأ کار کے مطابق ایک جامع اور قابلِ عمل او ایس ایچ پالیسی تشکیل دی جا سکے۔

یہ مشاورت وزارتِ سمندر پار پاکستانی و ترقیٔ انسانی وسائل نے بین الاقوامی ادارۂ محنت (آئی ایل او) کی تکنیکی معاونت سے منعقد کی۔ اجلاس میں پالیسی کے صفر مسودے اور مجوزہ عمل درآمدی فریم ورک کا جائزہ لیا گیا۔ اس عمل میں حکومت، آجروں اور کارکنوں کے ساتھ پیشہ ورانہ صحت، سماجی تحفظ کے اداروں، صنعت، او ایس ایچ ماہرین، اکیڈمیا اور دیگر متعلقہ فریقوں کی آرا بھی شامل کی جا رہی ہیں۔

مجوزہ پالیسی کا مقصد رسمی اور غیر رسمی روزگار دونوں میں تحفظ کو وسعت دینا ہے۔ مسودے میں خواتین، نوجوان اور عمر رسیدہ کارکنوں، معذور افراد، تارکینِ وطن، گھریلو، گھروں سے کام کرنے والے، زرعی اور پلیٹ فارم ورکرز کے مختلف حالات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان، گیر ٹی ٹونسٹول نے کہا کہ پاکستان یہ پالیسی بنیاد سے تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل شواہد سے شروع ہوا، صوبوں سے گزرا اور آجروں و کارکنوں کو بحث کا حصہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مقصد محض ایک اور پالیسی دستاویز تیار کرنا نہیں بلکہ ایسا فریم ورک بنانا ہے جس پر پاکستان کے ادارے عمل کر سکیں اور جسے کام گاہیں استعمال کر سکیں۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ 2022ء میں بین الاقوامی لیبر کانفرنس نے محفوظ اور صحت مند کام کے ماحول کو کام کے بنیادی اصول اور حق کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ آئی ایل او کنونشن نمبر 155 اور 187 قومی او ایس ایچ پالیسی، بچاؤ، ادارہ جاتی ڈھانچے اور مسلسل بہتری کے لیے بنیادی بین الاقوامی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ پالیسی عمل کام کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال کا جواب بھی ہے۔ روایتی کام گاہی خطرات اب شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی، کیمیائی و حیاتیاتی خطرات، ٹیکنالوجی کی تبدیلی، نفسیاتی و سماجی خطرات اور روزگار کی نئی اشکال کے ساتھ جڑ رہے ہیں۔ اسی لیے صفر مسودے میں ایک احتیاطی اور مستقبل بین نقطۂ نظر تجویز کیا گیا ہے، جبکہ ایسے کارکنوں تک تحفظ بتدریج پہنچانے پر بھی زور دیا گیا ہے جن تک روایتی او ایس ایچ نظام کے ذریعے پہنچنا نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے۔

وفاقی سیکریٹری وزارتِ سمندر پار پاکستانی و ترقیٔ انسانی وسائل، ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اُن لوگوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہونی چاہیے جو اس ترقی کو ممکن بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط قومی او ایس ایچ فریم ورک محفوظ کام گاہوں، پیداواری اداروں اور عالمی معیشت میں پاکستان کے ایک ذمہ دار اور مسابقتی شریک بننے کے عزم کو تقویت دے سکتا ہے۔

پالیسی کا مقصد پاکستان کے منتقل شدہ لیبر گورننس نظام کا احترام کرتے ہوئے ہم آہنگی کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ صوبے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں عمل درآمد اور نفاذ کے ذمہ دار رہیں گے، جبکہ قومی سطح پر رابطہ مشترکہ ترجیحات، تجربات کے تبادلے، قابلِ موازنہ معلومات اور بین الاقوامی لیبر معیارات سے وابستگی میں معاون ہو سکتا ہے۔

اس نقطۂ نظر میں سماجی مکالمے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان اور پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کی شرکت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پالیسی ادارہ جاتی ترجیحات کے ساتھ ساتھ اداروں اور کارکنوں کو درپیش عملی حقائق کی بھی عکاسی کرے۔ او ایس ایچ کو مضبوط بنانا پاکستان کے وسیع تر باوقار روزگار اور ترقیاتی ایجنڈے کی بھی معاونت کرتا ہے۔

یہ مشاورت آئی ایل او کے بنیادی او ایس ایچ کنونشنز پر پاکستان کے مسلسل غور و خوض میں ایک اور قدم بھی ہے۔ پالیسی کا مقصد قانونی، پالیسی، ادارہ جاتی اور عمل درآمدی ماحول کو مضبوط بنانا اور کنونشن نمبر 155 اور 187 کے ساتھ بتدریج ہم آہنگی اور مستقبل میں ان کی توثیق پر غور کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے، جو پاکستان کی قومی ترجیحات اور آئینی انتظامات کے مطابق ہو گا۔

قومی مشاورت کے شرکا تین اہم شعبوں پر توجہ دیں گے: گورننس اور سماجی مکالمہ، او ایس ایچ ڈیٹا سسٹمز اور رپورٹنگ، اور او ایس ایچ بچاؤ و کام گاہی انتظام۔ ان شعبوں سے متعلق سفارشات پالیسی اور عمل درآمدی فریم ورک کو مزید بہتر بنانے میں شامل کی جائیں گی۔ شرکا نے سب کے لیے او ایس ایچ کے فروغ اور آئی ایل او او ایس ایچ کنونشن کی توثیق کی وکالت کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار کیا۔

Share This Article