پاکستان کا ابھرتا ہوا ثالثی کردار

newsdesk
5 Min Read
ادارہ برائے علاقائی مطالعات کے گِردِ میز میں کہا گیا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں ثالثی کر کے علاقائی کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار کی

اسلام آباد میں ادارہ برائے علاقائی مطالعات نے ایک اہم گِردِ میز گفتگوجمع کی جس میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم، سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق سفیر آصف درانی، میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمود، صحافی حمید میر اور میڈیا مبصرہ نگار منیزہ جہانگیر نے شرکت کی، جبکہ صدر ادارہ سفیر جوہر سلیم نے صدارت کی۔ اس نشست میں خطے پر چالیس روزہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے اثرات اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے ثالثی کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔صدر ادارہ نے بتایا کہ جنگ کے اثرات توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی رکاوٹیں اور ممکنہ علاقائی کشیدگی کے خطرات کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال نے پاکستان کو ایک قابلِ بھروسہ ثالث کے طور پر اجاگر کیا ہے اور اس نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی راہوں کو بحال کرنے میں کردار ادا کیا، جس سے عالمی سطح پر بے قابو صورتحال کے امکانات کو کم کیا گیا۔ یہاں اس بحث میں بار بار پاکستان ثالثی کا تصور سامنے آیا اور اس کی اہمیت اجاگر کی گئی۔سینیٹر مشاہد حسین نے اس لمحے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ میں سنگ میل قرار دیا اور پچھلے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے مذاکراتی راستے کھولے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس تنازع کے تین بنیادی نتائج سامنے آئے ہیں: ایک بڑے اسرائیلی نظریہ کا زوال، امریکہ کے اثرورسوخ میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے نئے باہمی سیکورٹی ڈھانچے کی ضرورت۔ ان کے بقول خلیج کی سلامتی کا تعین مقامی فریقین کو کرنا چاہیے نہ کہ خارجي طاقتوں کو۔ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے جنگ کے دوران ایران کے تجربات سے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے پاکستان کی حمایت کا اعتراف کیا اور اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے محتاط خوشدلی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے کھلا ہے مگر بیرونی دشمن ریاستی استحکام کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایران کی مضبوطی کو افراد پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی بنیادوں پر مبنی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بطور پڑوسی اور اسلامی شراکت دار اعتماد کا اولین ذریعہ رہا ہے، اس لیے وہ تعمیری سفارتی نتیجے کے لیے پسندیدہ مذاکراتی رکن ہے۔سابق سفیر آصف درانی نے کہا کہ امریکی و اسرائیلی اقدامات اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے روس اور چین کی حمایت سے ایک نئے علاقائی سیکورٹی فریم ورک کی تجویز دی تاکہ طویل المدت امن و استحکام ممکن ہو سکے۔ ان کی رائے میں موجودہ حالات نئے طاقت کے توازن اور کثیرقطبی دنیا کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمود نے معاملے کو کثیرالقطبی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا اور کہا کہ تنازع نے ایران کے اندر نظریاتی ہم آہنگی کو مضبوط کیا، علاقائی سطح پر جوہری توازن کے رجحانات کو تقویت دی اور پاکستان کے لیے افقی پھیلاؤ کے خطرات بڑھائے ہیں۔ انہوں نے خطے میں مشترکہ سیکورٹی ڈھانچے، بھارت کے ممکنہ خلل اندازی سے چوکسی اور ایران کی شمولیت پر مستقبل بین مذاکراتی انداز کی ضرورت پر زور دیا۔صحافی حمید میر نے کہا کہ ایران کی مزاحمت نے پاکستان کے ثالثی حیثیت کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا، اور امریکہ کی عالمی شبیہ متاثر ہونے سے مذاکرات کی راہیں پھر سے کھل گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اعتراف کیا کہ اسلام آباد مذاکرات ممکنہ طور پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان دیرپا سمجھوتے کی بنیاد بن سکتے ہیں، البتہ اس ضمن میں سنجیدگی اور مستقل کوشش درکار ہے۔منیزہ جہانگیر نے زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ سے مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے اور عوامی سطح پر موجودہ جنگ امریکہ اور پاکستان دونوں میں ناقدانہ رجحان کے باعث غیر مقبول رہی، جس نے سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت کو بڑھا دیا ہے۔گِردِ میز گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ثالثی کے سلسلے میں ایک ابھرتا ہوا کھلاڑی ہے جسے ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ شرکاء نے اس موقع کو اسٹریٹجک اہمیت اور سنگین تقاضوں کے ساتھ دیکھا اور پاکستان ثالثی کو خطے میں پائیدار امن اور مفاہمت کے قیام کی ایک ممکنہ راہ قرار دیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے