الحمدللہ! پاکستان اور کینیا کے درمیان دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر کی حد سے بڑھ گئی ہے اور اب اس کی مالیت ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کینیا کو برآمدات بھی مالی سال / میں تاریخ کی بلند ترین سطح ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو دونوں ملکوں کی تجارتی تاریخ میں پاکستان کی جانب سے کینیا کو سب سے زیادہ برآمدات ہیں۔
یہ نمایاں پیش رفت پاکستان اور کینیا کے تجارتی تعلقات کی بڑھتی ہوئی مضبوطی، اور ہائی کمیشن آف پاکستان کے کمرشل سیکشن کی مسلسل محنت اور بھرپور لگن کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ کمرشل قونصلر کی جانب سے کینیائی سرکاری اداروں، چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں اور نجی کاروباری حلقوں سے مسلسل رابطے نے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔
گزشتہ دو برسوں میں کئی اہم اقدامات نے اس ریکارڈ کارکردگی کی بنیاد رکھی۔ ان میں پاکستان میں میرٹ کی بنیاد پر وفود کی کامیاب تنظیم، اور فوداگ، ہی ای ایم ایس، پی اے ٹی ڈی سی، ٹیکسپو اور ڈبلیو ایچ ایکس سمیت پانچ بڑی تجارتی نمائشوں میں شمولیت شامل ہے، جہاں کینیائی درآمد کنندگان نے موقع پر ہی لاکھوں ڈالر مالیت کے معاہدے کیے۔
تجارتی مشن نے کینیا ریونیو اتھارٹی سے پاکستانی چاول کی کسٹمز ویلیو ڈالر سے کم کروا کر ڈالر کروانے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس سے کینیا میں پاکستانی چاول زیادہ مسابقتی ہو گیا۔ اسی طرح سے زائد پاکستانی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی کینیا کے فارمیسی اینڈ پوائزنز بورڈ سے انسپکشن اور رجسٹریشن کے لیے بھی کوششیں کی گئیں۔
اس کے علاوہ پاکستان کینیا مشترکہ تجارتی کمیٹی کا دوسرا اجلاس بھی کامیابی سے منعقد ہوا، جو پہلی بار فزیکل طور پر ہوا۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لیے مشرقی افریقی کمیونٹی کے ساتھ عمل بھی جاری ہے۔ بیسمتی چاول کے جغرافیائی شناختی کیس میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اور پاکستان کے لیے مثبت نتیجے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، ان شاء اللہ۔
