پیرس میں واقع یونیسکو کے صدر دفتر میں پاکستان کو غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق 2003ء کے معاہدے کے رکن ممالک کی جنرل اسمبلی کا نائب چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ اس انتخاب کو پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی ذمہ داری قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ملک عالمی سطح پر ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عمل میں اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرے گا۔پاکستان کی جانب سے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملک غیر مادی ثقافتی ورثہ محفوظ بنانے اور اسے فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے۔ پاکستانی نمائندگی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روایتی اظہار، لوک ثقافت، رسومات، ہنر اور معاشرتی اقدار جیسے زندہ ورثے کی حفاظت مستقبل کی نسلوں کے لیے ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان مختلف ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ فہرستوں میں شمولیت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اقدامات میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان نے ایسے ثقافتی مظاہر کے تحفظ پر توجہ دی ہے جو اس کی متنوع تہذیبی شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔پاکستانی موقف میں کہا گیا ہے کہ غیر مادی ثقافتی ورثہ صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ معاشرتی تسلسل اور تہذیبی شناخت کا ذریعہ بھی ہے۔ اسی لیے پاکستان آئندہ بھی رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ زندہ ورثے کے تحفظ، منتقلی اور بین الاقوامی اشتراک کو فروغ دیا جا سکے۔یونیسکو کے اس پلیٹ فارم پر پاکستان کی نئی ذمہ داری کو ثقافتی سفارت کاری کے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ملک کی بین الاقوامی حیثیت مضبوط ہوگی بلکہ غیر مادی ثقافتی ورثہ کے عالمی تحفظ کے لیے بھی عملی تعاون میں اضافہ متوقع ہے۔
