پاکستان اور جرمنی کے پارلیمانی روابط کو نئی جہت دینے پر اتفاق

newsdesk
5 Min Read
جرمن بنڈسٹاگ کے رکن کرسٹوف شمڈ نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی۔

اسلام آباد: جرمن بنڈسٹاگ کے رکن مسٹر کرسٹوف شمڈ نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے معزز ڈپٹی اسپیکر سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور جرمنی کے باہمی تعلقات، پارلیمانی وفود کے تبادلوں اور علاقائی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات ڈپٹی اسپیکر چیمبر میں ہوئی، جبکہ اسپیشل سیکرٹری، اسپیشل انیشی ایٹوز، سید شمون ہاشمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

معزز ڈپٹی اسپیکر نے مسٹر شمڈ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات دیرینہ، وسیع البنیاد اور مختلف شعبوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ جرمنی کی جانب سے پاکستان میں دلچسپی برسوں سے نمایاں رہی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ کووڈ 19 کی وبا سے قبل دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی وفود کے دورے اور رابطے فعال تھے، جنہیں دوبارہ بحال کرنے اور مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے 2014 میں جرمن بنڈسٹاگ کے اس وقت کے اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ لامرٹ کے دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے پارلیمانی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ معزز ڈپٹی اسپیکر نے بتایا کہ اس دورے کے دوران انہیں کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر جرمن اسپیکر کی میزبانی کا موقع ملا، جہاں کاروباری برادری، سول سوسائٹی اور سیاسی قیادت کے نمائندوں کی موجودگی میں پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقات سے رابطے کا موقع میسر آیا۔

ڈپٹی اسپیکر نے 2010 کے سیلاب کے دوران پاکستان کے لیے جرمنی کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کو بھی سراہا۔ انہوں نے افغانستان میں تنازعات سے جڑی ماضی کی علاقائی بے یقینی کے ادوار میں جرمنی کی حمایت اور رابطوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ موجودہ علاقائی چیلنجز کے تناظر میں جرمنی کی مسلسل سمجھ بوجھ اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

مسٹر کرسٹوف شمڈ نے گرمجوشی سے استقبال پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان اور جرمنی کے درمیان پارلیمانی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جرمن بنڈسٹاگ میں پاکستان جرمنی پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے قیام کو مستقل پارلیمانی رابطوں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔ معزز ڈپٹی اسپیکر نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ قومی اسمبلی مناسب ذرائع سے اس معاملے کو آگے بڑھانے اور دونوں پارلیمانوں کے ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔

ملاقات کے دوران مسٹر شمڈ نے ایران سے متعلق موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مکالمے اور ثالثی کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف نقطہ نظر رکھنے والے شراکت داروں سے رابطے اور بات چیت کی سہولت فراہم کرنے کی پاکستان کی کوششوں نے جرمنی اور بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی کوریج سے جرمن ارکان پارلیمنٹ میں بھی دلچسپی بڑھی ہے۔

معزز ڈپٹی اسپیکر نے جرمنی سے وابستہ اپنی ذاتی یادیں بھی شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کی پہلی فضائی پرواز لفتھانزا کے ذریعے فرینکفرٹ کے لیے تھی، جبکہ انہوں نے اپنے والد کے ہمراہ اسٹٹگارٹ سے پاکستان تک بذریعہ سڑک سفر کی یاد بھی تازہ کی۔ ڈپٹی اسپیکر نے مستقبل میں مسٹر شمڈ کے دورہ پاکستان کے امکان پر مسرت کا اظہار کیا اور انہیں کراچی میں میزبانی کی پیشکش کی۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پاکستان اور جرمنی کے درمیان مستقل پارلیمانی روابط اور عوامی سطح پر قریبی رابطوں کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔ جرمن بنڈسٹاگ میں پاکستان جرمنی پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے مجوزہ قیام کو پارلیمانی مکالمے کو نئی تحریک دینے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔

Share This Article