توانائی بحران شدت اختیار کر گیا: پاکستان کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی جانب فوری منتقلی ناگزیر قرار

newsdesk
4 Min Read
ماہرین کا کہنا ہے پاکستان کو درآمدی فوسل ایندھن سے بچنے کے لیے فوری طور پر تجدید توانائی اور بیٹری ذخیرہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے

توانائی بحران شدت اختیار کر گیا: پاکستان کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی جانب فوری منتقلی ناگزیر قرار

اسلام آباد: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی توانائی سکیورٹی ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں درآمدی فوسل فیول پر بڑھتا ہوا انحصار نہ صرف معیشت پر بوجھ بن رہا ہے بلکہ طویل المدتی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (PREC) اور الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی (ACJCE) کی جانب سے جاری کردہ “انرجی سکیورٹی چارٹر” میں قابلِ تجدید توانائی کی جانب فوری اور فیصلہ کن پیش رفت پر زور دیا گیا ہے۔

چارٹر کے مطابق حالیہ عالمی اور علاقائی بحرانوں، خصوصاً امریکہ۔ایران کشیدگی، نے پاکستان کے توانائی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جو بڑی حد تک درآمدی تیل، ڈیزل اور گیس پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ انحصار نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھاتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث بن کر توانائی کے نظام کو غیر پائیدار بناتا ہے۔

چارٹر میں قابلِ تجدید توانائی کی جانب بنیادی پالیسی تبدیلی کو کلیدی حیثیت دی گئی ہے۔ اے سی جے سی ای کے رکن ڈاکٹر خالد ولید نے زور دیا کہ حکومت کو شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) جیسے جدید ذخیرہ جاتی نظام میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ٹیکنالوجیز پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز فوری طور پر ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو تیز کیا جا سکے۔

ایک اہم تجویز شمسی توانائی کے لیے نیٹ میٹرنگ نظام کی بحالی بھی ہے، جسے حالیہ برسوں میں محدود کر دیا گیا تھا۔ ماہر خادم حسین کے مطابق سولر پر 10 فیصد جی ایس ٹی جیسے اقدامات نے دیہی علاقوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے متبادل توانائی تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔ نیٹ میٹرنگ کی بحالی سے صارفین کو سولر پینلز لگانے کی ترغیب ملے گی اور گرڈ پر انحصار کم ہو سکے گا۔

چارٹر میں فوسل فیول پر مبنی منصوبوں اور بڑے ڈیموں کی توسیع روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جو ماحولیاتی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ایسے معاہدوں پر نظرثانی یا خاتمے کی تجویز دی گئی ہے جو فوسل فیول پر مبنی ہیں اور بھاری کیپیسٹی پیمنٹس کا سبب بن رہے ہیں۔

مزید برآں، حکومت کو مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور چارجنگ انفراسٹرکچر کے فروغ پر بھی توجہ دینے کی سفارش کی گئی ہے، تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کاربن اخراج میں کمی لائی جا سکے۔ چارٹر میں دیہی اور پسماندہ علاقوں کے لیے کمیونٹی بیسڈ توانائی منصوبوں، جیسے منی گرڈز اور سولر شیئرنگ ماڈلز، کو بھی ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے۔

چارٹر نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی ہے، تاکہ انہیں پاکستان کے ماحولیاتی اور توانائی کے طویل المدتی اہداف کے مطابق بنایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت جامع، دور اندیش اور پائیدار پالیسیاں اپنائے، جو نہ صرف توانائی کی خود کفالت کو یقینی بنائیں بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی استحکام کو بھی فروغ دیں۔ یہ چارٹر پاکستان کے لیے ایک صاف، سبز اور مستحکم توانائی مستقبل کی جانب واضح لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے