پاکستان بیت المال میں جعلی ڈگریوں کا معاملہ

newsdesk
5 Min Read
پاکستان بیت المال میں جعلی ڈگری کے الزامات پر سوالات اٹھ گئے

پاکستان بیت المال میں ڈگریوں کی جانچ اور انتظامی فیصلوں پر سوالات

تحریر: تزئین اختر

اسلام آباد: پاکستان بیت المال (PBM) میں بعض افسران کی تعلیمی اسناد کی جانچ، محکمانہ کارروائی اور حالیہ انتظامی فیصلوں کے حوالے سے مختلف سوالات سامنے آئے ہیں۔ دستیاب سرکاری دستاویزات، خط و کتابت اور متعلقہ حکام کے مؤقف کے مطابق ان معاملات پر متعلقہ اداروں میں کارروائی اور مراسلت کا سلسلہ جاری رہا۔

دستاویزات کے مطابق گریڈ 19 کے ڈائریکٹر رضوان احمد کی ایم بی اے ڈگری کے حوالے سے وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے شکایات موصول ہونے پر معاملہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو بھیجا۔ ذرائع کے مطابق ایچ ای سی نے متعلقہ ادارے کے بارے میں اپنی رائے وزارت کو ارسال کی، جس کے بعد وزارت نے فروری اور بعد ازاں جون 2025 میں پاکستان بیت المال سے اس معاملے پر ضابطے کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی۔

دستاویزات کے مطابق بعد ازاں وزارت نے ڈائریکٹر فنانس اعجاز حسین کو بھی معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق رضوان احمد بدستور اپنے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایک اور معاملہ گریڈ 18 کے افسر بلال انور سے متعلق بتایا جاتا ہے، جو اس وقت پاکستان بیت المال میں تعلقات عامہ (PRO) کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ان کی تعلیمی اسناد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے تھے اور متعلقہ سینیٹ قائمہ کمیٹی نے انتظامیہ کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی سفارش کی تھی۔ تاہم اس حوالے سے کارروائی کی موجودہ صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔

اسی دوران پاکستان بیت المال کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ذیشان دانش کو گزشتہ ماہ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے اپنے اصل ادارے، پنجاب یونیورسٹی، واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ اندرونی انتظامی اختلافات کے تناظر میں سامنے آیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان معاملات پر پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر کیپٹن (ر) خالد شاہین بٹ نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ رضوان احمد کی تقرری ان کی گریجویشن کی ڈگری کی بنیاد پر ہوئی تھی، جو درست ہے۔ ان کے مطابق ایم بی اے کی ڈگری ایسے ادارے سے تھی جو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ نہیں تھا، تاہم ان کے بقول اسے جعلی ڈگری کی بنیاد پر تقرری کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک سالانہ انکریمنٹ روکنے اور وارننگ دینے کی محکمانہ کارروائی کی جا چکی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے بارے میں منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان بیت المال میں پہلے سے ڈائریکٹر جنرل کی کوئی مستقل آسامی موجود نہیں تھی بلکہ یہ عہدہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ڈاکٹر ذیشان دانش کی تعیناتی کے لیے تخلیق کیا تھا۔ ان کے مطابق اس آسامی کی تخلیق کے بارے میں سوال کرنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔

تاہم اس تمام معاملے نے چند اہم انتظامی سوالات کو جنم دیا ہے، جن میں یہ شامل ہے کہ اگر ڈائریکٹر جنرل کی آسامی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تخلیق کی تھی تو بعد میں اس عہدے سے متعلق فیصلہ کابینہ ڈویژن نے کس قانونی و انتظامی طریقہ کار کے تحت کیا؟ اسی طرح یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرری اور تبادلے کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط کا اطلاق کس انداز میں کیا جاتا ہے۔

یہ رپورٹ دستیاب سرکاری دستاویزات، خط و کتابت اور متعلقہ حکام کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اگر اس معاملے میں کوئی متعلقہ ادارہ یا فرد اپنا مؤقف دینا چاہے تو اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔

Copied From: PBM Faces Action Over Fake Degree Holders – Peak Point

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے